دھان پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری
دھان پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری
ملتان۔ 23 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان پنیری کی منتقلی کے دوران احتیا طی تدابیر بارے سفارشات جاری کر دیں۔منگل کو محکمہ زراعت کی جانب سے جاری سفارشات میں کا شتکاروں کو کہا گیا ہے کہ دھان کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے منتقلی کے وقت پنیری کی عمر 25 تا 35 دن ہونی چاہیے،اگر لاب میں جڑی بوٹیاں اُگ آئیں تو ان کے انسداد کیلئے بعد از اُگاؤ والی محکمہ زراعت کی سفارش کردہ زہر سپرے کر یں۔منتقلی لاب کیلئے کھیت کی تیاری کے وقت موٹی اقسام کیلئے بعد از گندم کاشتہ کھیت میں کھادوں کا استعمال بحساب پونے دو بوری ڈی اے پی + سوابوری ایس او پی فی ایکڑ جبکہ باسمتی اقسام کیلئے ڈیرھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعما ل کریں۔
اگر سابقہ فصل برسیم یا پھلی دار ہو یا کھیت رویال ہو تو نائٹروجن کھاد کی مقدار 20 فیصد کم کرلیں ۔ فصل کی حالت، زمین کی زرخیزی اور سابقہ کاشتہ فصل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورہ سے کھاد کی مقدار میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔ بوران کی کمی کی صورت میں 3 کلوگرام بورک ایسڈ یا 4.5 بوریکس (20 فیصد) فی ایکٹر بوقت تیاری کھیت استعمال کریں۔
لاب کی منتقلی کے وقت پودوں کی تعداد 80 ہزار اور سوراخوں میں 1 لاکھ 60 ہزار پودے فی ایکٹر رکھیں یعنی 9 انچ کے فاصلے پر فی سوراخ 2 پودے لگائے جائیں منتقلی لاب کے بعد 3 تا5 دن کے اندر قبل از اُگا ؤاثر کرنے والی سفارش کردہ جڑی بوٹی مار ز ہر شیکر بوتل کے ساتھ کھیت کے اندر پانی میں بکھیر دیں اور پانچ دن تک پانی کھیت میں کھڑا رکھیں۔ اگر کسی وجہ سے کھیت میں جڑی بوٹیاں اگ آئیں تو بعد از اگا ؤ اثر کرنے والی زہریں لاب کی منتقلی کے ایک مہینہ کے اندر استعمال کرلیں۔
دھان کے کا شتکار زنک کی کمی کی صورت میں کاشت کے دو ہفتے بعد 200 گرام زنک سلفیٹ (33 فیصد) فی مرلہ نرسری میں استعما ل کریں یا پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے پہلے محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے اس کی جڑوں کو ز تک آکسائیڈ کے دوفیصد محلول میں ڈبوکر لگائیں ۔









