وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ڈورنیئر گروپ اور ای وائی پارتھینن کی تیار کردہ بینک ایبل فزیبلٹی سٹڈی پیش کر دی گئی۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ڈورنیئر گروپ اور ای وائی پارتھینن کی تیار کردہ بینک ایبل فزیبلٹی سٹڈی پیش کر دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جون (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ڈورنیئر گروپ اور ای وائی پارتھینن کی تیار کردہ بینک ایبل فزیبلٹی سٹڈی پیش کر دی گئی۔
سٹڈی کے مطابق پاکستان درآمدی کوئلے کو مقامی تھر کوئلے سے بدل کر اگلے 26 سالوں میں 3.239 بلین ڈالر بچا سکے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اس تاریخی تبدیلی کا اطلاق جامشورو پاور پلانٹ یونٹ-01 پر کیا جائے گا جو پاکستان کا انتہائی جدید (الٹرا سپرکریٹیکل) پاور پلانٹ ہے، جہاں درآمدی کوئلے کی جگہ 100 فیصد مقامی تھر لگنائٹ استعمال کی جائے گی۔ فزیبلٹی سٹڈی کے مطابق یہ تبدیلی تکنیکی، معاشی اور ماحولیاتی طور پر مکمل طور پر قابل عمل ہے۔ اس تبدیلی سے صرف غیر ملکی زرمبادلہ میں 2.113 بلین ڈالر کی بچت ممکن ہوگی جس سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوطی ملے گی اور درآمدی کوئلے کی قیمتوں میں اتار چڑھائو اور شرح مبادلہ کے خطرات سے نجات ملے گی۔ لاگت سے فائدہ کا تناسب 1.8x ہے جو کہ تمام صورتوں میں انتہائی سازگار ہے۔اس منصوبے سے پاور سیکٹر کو خالص فائدہ 1.720 بلین ڈالر ہوگا جن میں پیداواری لاگت میں 1.051 بلین ڈالر کی بچت اور تھر مائن کی توسیع سے 669 ملین ڈالر کے مزید فوائد شامل ہیں۔ حکومت کو غیر ملکی قرضوں پر سود کی لاگت میں 1.519 بلین ڈالر کی بچت ہوگی جس سے مجموعی معاشی فائدہ 3.239 بلین ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی پر کل لاگت 116.6 ملین ڈالر ہے جس میں سے اونائٹ سرمایہ 86.2 ملین ڈالر ہے۔ یہ منصوبہ برائون فیلڈ ترمیم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے جس میں کوئی نیا کوئلہ کیپیسٹی شامل نہیں کی جائے گی، بلکہ ہدف شدہ انجینئرنگ تبدیلیوں کے ذریعے موجودہ پلانٹ کی قدر کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس منصوبے سے تھرپارکر میں روزگار اور انفراسٹرکچر کو فروغ ملے گا جبکہ درآمدی کوئلے پر انحصار ختم ہو کر توانائی خود کفالت کا راستہ ہموار ہوگا جو حکومت کے پاور سیکٹر ریفارم پلان کے تحت مقامی وسائل کو فروغ دینے کے عزم کا مظہر ہے۔وزیر توانائی نے خود اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جس کے 38 اجلاس ہوئے جن میں سے 15 اجلاس خود وزیر کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ ان اجلاسوں میں ریگولیٹرز، قرض دہندگان، تکنیکی ماہرین اور پراجیکٹ سپانسرز کے ساتھ مشاورت کی گئی اور پیش رفت میں رکاوٹ بننے والے کلیدی مسائل کو حل کیا گیا۔ وزیر توانائی نے کے-الیکٹرک (کے ای)، جامشورو پاور کمپنی (جے پی سی ایل) اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے بھرپور تعاون سے یہ فزیبلٹی سٹڈی ممکن ہو سکی۔ ترجمان نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف کے پاور سیکٹر ریفارم پلان کا ایک اہم ستون ہے جو توانائی کے شعبے میں مقامی وسائل کو فروغ دینے، مالی استحکام اور طویل مدتی توانائی تحفظ کے عزم کا مظہر ہے۔








