عمر اور تجربہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت ہیں،ایلیس پیری

آسٹریلیا کی عظیم آل رائونڈر ایلیس پیری نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عمر اور تجربہ ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت ہیں۔

لاہور۔24جون (اے پی پی):آسٹریلیا کی عظیم آل رائونڈر ایلیس پیری نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عمر اور تجربہ ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ طاقت ہیں۔ ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف میچ میں نمبر تین پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 48 گیندوں پر 71 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کو 113 رنز کی بڑی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے گیند بازی میں بھی 2 وکٹیں حاصل کیں اور پلیئر آف دی میچ قرار پائیں۔35 سالہ پیری نے 2007 میں صرف 16 برس کی عمر میں آسٹریلیا کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ اگرچہ وہ طویل عرصے سے دنیا کی بہترین خواتین کرکٹرز میں شمار ہوتی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنے کھیل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ترجمان آئی سی سی کے مطابق پیری کا کہنا ہے کہ 20 کرکٹ وہ فارمیٹ ہے جس میں انہیں اپنی بہترین اندازِ کھیل تلاش کرنے میں سب سے زیادہ قت لگا۔پاکستان کے خلاف میچ میں وہ فوبی لچفیلڈ کی انجری کے باعث نمبر تین پر بیٹنگ کے لیے آئیں اور جارجیا وول کے ساتھ سنچری شراکت قائم کی۔ میچ کے بعد پیری نے کہا کہ وہ کسی خاص بیٹنگ پوزیشن کی فکر نہیں کرتیں بلکہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق ہر کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔پیری نے کہا کہ کھیل کی سب سے بڑی کشش ان کے لیے مسلسل سیکھنا اور بہتر ہونا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک کھلاڑی کو وقت کے ساتھ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی ترقی کرنی چاہیے اور وہ آج اپنے کیریئر کے آغاز کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز سے سوچتی ہیں۔

دوسری جانب آسٹریلوی وکٹ کیپر بیتھ مونی کی فٹنس بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کے خلاف میچ کے دوران ان کی ایک انگلی دو مرتبہ اپنی جگہ سے نکل گئی، تاہم انہوں نے میدان نہیں چھوڑا اور شاندار انداز میں وکٹ کیپنگ جاری رکھی۔ پیری نے مونی کی ہمت اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ مشکل حالات میں بھی بہترین کارکردگی دکھاتی ہیں۔آسٹریلیا اب گروپ مرحلے میں اپنے چاروں میچ جیت چکا ہے اور سیمی فائنل کی دوڑ میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔ اب اس کا اگلا بڑا مقابلہ بھارت کے خلاف لارڈز میں ہوگا، جو گروپ کی صورتحال کا فیصلہ کن میچ ثابت ہو سکتا ہے۔ایلیس پیری کی حالیہ کارکردگی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف ماضی کی عظیم کھلاڑی نہیں بلکہ آج بھی مسلسل بہتر ہونے اور اپنی ٹیم کو کامیاب بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

مزید خبریں