عہدے تاحیات نہیں رہتے مگر عزت اور احترام کے رشتے قائم رہنے چاہئیں، سپیکر قومی اسمبلی

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ عہدے تاحیات نہیں رہتے مگر عزت اور احترام کے رشتے قائم رہنے چاہئیں۔

اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ عہدے تاحیات نہیں رہتے مگر عزت اور احترام کے رشتے قائم رہنے چاہئیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائدحزب اختلاف کی تقریرکے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ وہ خود درویش صفت انسان ہیں، میں نے1998 میں پاکستان تحریک انصاف سے استعفی دیا تھا اورایک خط بھی لکھا تھا جوآج بھی میرے پاس ہے، اس خط میں پارٹی چھوڑنے کی ساری وجوہات بتائیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے یکم فروری 2001 کو اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیارکی جب پارٹی اپوزیشن میں تھی۔

سپیکرقومی اسمبلی نے کہا کہ کل قائد حزب اختلاف نے اپنی تقریر میں مجھے حوالدار کہا تو میں نے ازراہ تفنن بتایا کہ میں دو طرح کے حوالداروں کو جانتا ہوں، ایک حوالدار وہ جو سرحدوں پر فرائض سرانجام دیتاہے اور دوسرا حوالدار جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرتا ہے ان میں سے میں کونسا حوالدار ہوں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ قانون کہتا ہے کہ آپ سپیکرکے خلاف بات نہیں کر سکتے، قائد حزب اختلاف نے مجھ پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، مجھے بتایا جائے کہ میں نے کس طرح آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ یا ایم این اے شپ تاحیات نہیں ہوتی۔ عزت کے رشتے رہنے چاہئیں کیونکہ ہماری ذاتی لڑائی نہیں، میں نے کبھی بھی دل آزاری کی بات نہیں کی، گناہ گارہوں اورخطائیں کرتا ہوں مگرکوشش کرتا ہوں کہ اپوزیشن کے لوگوں کو موقع دوں اور انہیں زیادہ وقت دیا جائے۔ کٹوتی کی تحاریک پراپوزیشن کے 25،25لوگوں کوموقع دیا گیا مگرباہرجاکروہ بتارہے ہیں کہ سپیکر ہمیں بولنے کا موقع نہیں دے رہے۔