پاکستان کا اقوام متحدہ میں بچوں پر حملوں میں مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال پر اظہارِ تشویش

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ مسلح تنازعات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کو غیر معمولی اور مسلسل حملوں کی زد میں لا دیا ہے، جبکہ 2025 کے دوران بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ ۔27جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ مسلح تنازعات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بچوں کو غیر معمولی اور مسلسل حملوں کی زد میں لا دیا ہے، جبکہ 2025 کے دوران بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے "بچے اور مسلح تنازعات” کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی، بالخصوص بغیر پائلٹ ڈرونز اور مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں نے جنگ کی نوعیت کو مزید خطرناک بنا دیا ہے، جس کے باعث بچے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بچوں کے خلاف 12 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار عناصر کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے سے متاثرہ بچوں کی مشکلات کے خاتمے کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کا حل، احتیاطی سفارت کاری، پرامن ذرائع سے تنازعات کے تصفیے اور بین الاقوامی قوانین پر مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں پر سزا سے استثنیٰ کے خاتمے، سکولوں اور ہسپتالوں کو حملوں اور عسکری استعمال سے محفوظ رکھنے، محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر بھی زور دیا۔