محکمہ سول ڈیفنس فیصل آباد کی شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

ترجمان سول ڈیفنس فیصل آباد نے شدید گرمی کی متوقع لہر کے پیش نظر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

فیصل آباد۔ 30 جون (اے پی پی):ترجمان سول ڈیفنس فیصل آباد نے شدید گرمی کی متوقع لہر کے پیش نظر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ ترجمان کے مطابق ہیٹ ویو، حبس اور گھٹن کی کیفیت میں شہری اپنی گاڑیوں میں ہر قسم کی گیس والی اشیاء، ماچس، لائٹر، پریشر والے سپرے، شیشے یا کین میں بند کولڈ ڈرنکس، عطر، پرفیوم اور غیر ضروری الیکٹرانک ڈیوائسز کی بیٹریاں ہرگز نہ چھوڑیں کیونکہ شدید گرمی میں ان کے پھٹنے یا نقصان پہنچانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ گاڑی کا شیشہ معمولی سا کھلا رکھا جائے تاکہ اندر جمع ہونے والی گرم ہوا خارج ہو سکے، پٹرول ٹینک مکمل فل نہ کروایا جائے، پٹرول زیادہ بہتر ہے کہ شام یا رات کے وقت ڈلوایا جائے اور شدید گرمی کے اوقات میں غیر ضروری طویل سفر سے اجتناب کیا جائے۔ اس کے علاوہ ٹائروں میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھرنے سے بھی گریز کیا جائے۔

ترجمان سول ڈیفنس نے خبردار کیا کہ شدید گرمی کے باعث سانپ، بچھو اور دیگر زہریلے جانور اپنے بلوں سے نکل کر ٹھنڈی جگہوں کی تلاش میں گھروں، باغات اور فارم ہاو سز کا رخ کر سکتے ہیں لہٰذا شہری اپنے اردگرد کے ماحول پر خصوصی نظر رکھیں اور بچوں کو احتیاط برتنے کی تلقین کریں۔انہوں نے کہا کہ گرمی کی شدت کے دوران جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر صحت بخش مشروبات استعمال کیے جائیں۔ ایل پی جی گیس سلنڈرز کو ہرگز دھوپ میں نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پر محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

انہوں نے بجلی کے محفوظ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے میٹروں پر غیر ضروری لوڈ نہ ڈالا جائے اور صرف ضرورت والے کمرے میں ہی ائیر کنڈیشنر استعمال کیا جائے تاکہ بجلی کے نظام پر دبا و کم رہے۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو سر کو ڈھانپ کر رکھیں اور پانی ساتھ رکھیں۔انہوںنے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان حفاظتی ہدایات پر خود بھی عمل کریں اور اپنے عزیز و اقارب اور دیگر افراد تک بھی یہ معلومات پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شدید گرمی کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔