اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمینوں کی خرید و فروخت پر پابندی غیر قانونی قرار
اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمینوں کی خرید و فروخت پر پابندی غیر قانونی قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں زمینوں کی خرید و فروخت، رجسٹریشن اور انتقال سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں جائیدادوں کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔جسٹس محمد آصف نے شہری فضل عباس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل کاشف علی ملک عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جائیدادوں کی رجسٹریشن اور انتقال کے معاملات قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق چلائے جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کی روک تھام کی آڑ میں عام شہریوں کے بنیادی ملکیتی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے اور سی ڈی اے کے ایک خط کی بنیاد پر لگائی گئی عمومی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سب رجسٹرار اور ریونیو حکام کو جاری کیے گئے زبانی احکامات قانون سے ماوراء ہیں۔
فیصلے کے مطابق انتظامیہ نے ہائیکورٹ کے سابقہ عدالتی حکم کی خود تشریح کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا حالانکہ وہ حکم صرف غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کی تعمیر اور خرید و فروخت روکنے تک محدود تھا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامیہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنے کی پابند ہے اور انتظامی ہدایات کے ذریعے عدالتی احکامات میں ردوبدل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 ڈپٹی کمشنر کو جائیدادیں منجمد کرنے کا اختیار نہیں دیتے۔
عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت شہریوں کو جائیداد رکھنے، منتقل کرنے اور فروخت کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے جبکہ زمینوں کے انتقال پر مکمل پابندی ان آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اصل خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پورے علاقے کے قانون پسند شہریوں کو پابندی کا نشانہ بنانا امتیازی سلوک ہے جبکہ غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی کرتے وقت ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کم سے کم متاثر ہوں۔
عدالت نے فیصلے میں درخواست گزار کی ذاتی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاہ اللہ دتہ کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کی والدہ گردوں کے عارضے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جائیداد کی منتقلی پر پابندی کے باعث وہ طبی اخراجات اور دیگر مالی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہے جبکہ انتظامیہ نے متاثرہ افراد کو نہ تو کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سی ڈی اے کو غیر قانونی ہائوسنگ سکیموں کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماسٹر پلان کے تحفظ، زوننگ ریگولیشنز کے نفاذ اور غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے پاس مکمل اختیارات موجود ہیں تاہم ایسی کارروائیاں قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کی جانی چاہئیں۔








