ازبکستان کے وفد کا دورہ۔ تجارت، سرمایہ کاری اور تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

ازبکستان کے وفد کا دورہ۔ تجارت، سرمایہ کاری اور تحقیق کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

لاہور۔3جولائی (اے پی پی):ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی (UVAS) لاہور کے سنڈیکیٹ ہال میں جمہوریہ قراقل پاقستان (ازبکستان) کے چیئرمین کونسل آف منسٹرز ارمانوف فرہود اورازبائیووچ (H.E. Ermanov Farhod Urazbaevich) کی قیادت میں ازبکستان کے اعلیٰ سطحی سرکاری و تجارتی وفد کے اعزاز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں پنجاب اور ازبکستان کے درمیان لائیو سٹاک، زراعت، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور استعدادِ کار کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ، سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو، پاکستان میں ازبکستان کے سفیر تویتائیف علی شیر حکیمووچ (H.E. Tuytaev Alisher Hakimovich)، ازبکستانی وفد کے ارکان، پروگریسو فارمرز، سرمایہ کاروں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ نے ازبکستانی وفد کو پنجاب کے لائیو سٹاک سیکٹر کی استعداد، حکومتی اقدامات، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری ترقیاتی پروگراموں پر جامع بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا لائیو سٹاک مرکز ہے اور قومی معیشت میں اس شعبے کا بنیادی کردار ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کی حامل بھینسوں، گائیوں،بھیڑوں اور بکریوں کی ممتاز نسلوں، جدید بریڈ امپروومنٹ پروگرامز،مصنوعی نسل کشی، ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی، ویلیو ایڈیشن اور سائنسی تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے وفد کو محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کی جانب سے تیار کردہ معلوماتی بک لیٹ بھی پیش کی،جس میں پنجاب کے لائیو سٹاک سیکٹر،تحقیقی اداروں، جینیاتی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور ترقیاتی پروگراموں سے متعلق جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں۔سیکرٹری لائیو سٹاک نے کہا کہ پنجاب میں عالمی معیار کے مطابق اعلیٰ کوالٹی بیف کی پیداوار کی جا رہی ہے اور پاکستان پہلے ہی ازبکستان کو گوشت برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان گوشت کی تجارت، اعلیٰ جینیاتی نسلوں کے تبادلے، بریڈ امپروومنٹ، ویٹرنری سائنس، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور استعدادِ کار میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جن سے استفادہ کرتے ہوئے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

جمہوریہ قراقل پاقستان کے چیئرمین کونسل آف منسٹرز ارمانوف فرہود اورازبائیووچ نے پنجاب حکومت اور محکمہ لائیو سٹاک کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوڈ سکیورٹی اور لائیو سٹاک کی ترقی ازبکستان کی اہم قومی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان پاکستان، بالخصوص پنجاب کے ساتھ لائیو سٹاک، زراعت، تجارت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں طویل المدتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ازبکستان اس وقت پاکستان سمیت مختلف ممالک سے گوشت درآمد کر رہا ہے اور حالیہ عرصے میں تقریبا چار ہزار ٹن گوشت پاکستان سے درآمد کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے اعلیٰ جینیاتی صلاحیت کی حامل بیف نسلوں،مادہ جانوروں اور بھیڑوں کی درآمد میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ازبکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کی پیداواری صلاحیت اور جینیاتی معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔وفد میں شامل ازبکستان کے پروگریسو فارمرز نے بتایا کہ وہ ابتدائی مرحلے میں تقریبا ایک ہزار اعلیٰ نسل کے جانور درآمد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت پنجاب کے تعاون کے خواہاں ہیں۔ وفد نے بیف اور ڈیری فارمنگ، پولٹری، اعلی جینیاتی مادہ جانوروں کی درآمد، فارمرز کی استعدادِ کار میں اضافہ، جدید پیداواری ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، بریڈ امپروومنٹ پروگرامز اور ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفد نے پنجاب کے لائیو سٹاک ماہرین کو ازبکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تحقیق، تکنیکی مہارت اور بہترین تجربات کا موثر تبادلہ یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ نے ازبکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کو محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کی جانب سے یادگاری سووینئر پیش کیا۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے لائیو سٹاک، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری، استعدادِ کار میں اضافے اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک سیکٹر کی پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کا موثر انداز میں حصول یقینی بنایا جا سکے۔