زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے پی ایچ ڈی سکالرز پر زور دیا ہے کہ وہ اختراعی سوچ، دورحاضر کے مسائل کے حل پر مبنی تحقیق اور پراجیکٹ فنڈنگ کے حصول کے لئے تمام ممکنہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ ملک کو درپیش زرعی اور سماجی و معاشی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
پی ایچ ڈی سکالر ملک کو درپیش زرعی اور سماجی و معاشی چیلنجزکے حل کے لئے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں،پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 07 جولائی (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے پی ایچ ڈی سکالرز پر زور دیا ہے کہ وہ اختراعی سوچ، دورحاضر کے مسائل کے حل پر مبنی تحقیق اور پراجیکٹ فنڈنگ کے حصول کے لئے تمام ممکنہ صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ ملک کو درپیش زرعی اور سماجی و معاشی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیو سینیٹ ہال میں ڈائریکٹوریٹ آف گریجویٹ اسٹڈیز کے زیراہتمام پی ایچ ڈی سکالرز کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کو صرف تحقیقی مقالات کی اشاعت تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ کسانوں، صنعت اور پالیسی ساز اداروں کے لیے قابلِ عمل حل پر مبنی اختراعات کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، پائیدار زراعت اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اختراع پر مبنی اور مسائل کے حل سے ہم آہنگ تحقیق ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محققین کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیقی فنڈز کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیےں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقی گرانٹس کے حصول سے جدید اور عالمی معیار کی تحقیق کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے سکالرز کو صنعت، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی جامعات کے ساتھ اشتراکِ عمل بڑھانے کی تلقین کی تاکہ ان کی تحقیق کے اثرات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ جامعہ کے مستقبل کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی باصلاحیت پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے ایک نیا اسٹوڈنٹ شپ پروگرام متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو آمدن کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔قبل ازیں ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز ڈاکٹر خالد بشیر نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا۔انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی میں معیاری تحقیقی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی استعداد اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ سکالرز کو قومی ترجیحات اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اعلیٰ معیار کی تحقیق کرنے کے قابل بنائے گا۔








