اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی)نے توانائی کی بچت، آپریشنل استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے سولر انفراسٹرکچر ڈپلائمنٹ پروگرام (ایس آئی ڈی پی) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے جو ادارے کی پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں این ٹی سی کے دفاتر، ٹیلی کمیونیکیشن ایکسچینجز، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر آپریشنل تنصیبات کو …
این ٹی سی کا ملک گیر سولر انفراسٹرکچر ڈپلائمنٹ پروگرام شروع

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی)نے توانائی کی بچت، آپریشنل استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کے لیے سولر انفراسٹرکچر ڈپلائمنٹ پروگرام (ایس آئی ڈی پی) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے جو ادارے کی پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں این ٹی سی کے دفاتر، ٹیلی کمیونیکیشن ایکسچینجز، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر آپریشنل تنصیبات کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام سے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی، توانائی کی فراہمی میں بہتری اور حکومتِ پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے اسلام آباد میں این ٹی سی اور کاسب بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، زیرک انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور زیرک انرجی ڈویلپمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل مشترکہ کنسورشیم کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے۔یہ منصوبہ بلڈ، اون، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا جس کے مطابق مشترکہ منصوبہ تمام سرمایہ کاری، ڈیزائن، تنصیب، آپریشن اور جدید سولر فوٹو وولٹائیک نظام کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گاجبکہ رعایتی مدت مکمل ہونے کے بعدسولر انفراسٹرکچر کی ملکیت این ٹی سی کو منتقل کر دی جائے گی۔
این ٹی سی کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ادارے کے کاربن اخراج میں بھی خاطر خواہ کمی ہوگی، جس سے ماحول دوست اور پائیدار آپریشنز کو فروغ ملے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این ٹی سی انتظامیہ نے کہا کہ سولرانفراسٹرکچر ڈپلائمنٹ پروگرام روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کرنے، طویل المدتی مالی و آپریشنل فوائد حاصل کرنے اور جدید، مضبوط اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہےجو پاکستان کو ماحول دوست اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔







