وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں آبادی سے متعلق چیلنج سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی،مربوط اور ریاستی سطح پر ہم آہنگ قومی حکمتِ عملی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے عوام کی صلاحیت، پیداواری استعداد، تعلیم، مہارت اور تیاری سے وابستہ ہے۔
وزیراعظم کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل آبادی کے دباؤ کو قومی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی پر عملدرآمد یقینی بنائے گی، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پاکستان میں آبادی سے متعلق چیلنج سے نمٹنے کے لیے شواہد پر مبنی،مربوط اور ریاستی سطح پر ہم آہنگ قومی حکمتِ عملی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے عوام کی صلاحیت، پیداواری استعداد، تعلیم، مہارت اور تیاری سے وابستہ ہے۔ہفتہ کوعالمی یومِ آبادی کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے اس سال عالمی یومِ آبادی کے موضوع نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل میں حقیقت کا روپ دینا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ملک کی نوجوان آبادی ایک طرف قومی سرمایہ ہے تو دوسری جانب مؤثر پالیسی سازی کی متقاضی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ انسانی سرمایہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج صحت، غذائیت، تعلیم، مہارتوں کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے پر کی جانے والی ہر سرمایہ کاری مستقبل میں قومی پیداوار، معاشی استحکام اور خوشحالی کی ضمانت بنتی ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ فی خاتون اوسط شرحِ پیدائش 2006-07 میں 4.1 تھی جو 2017-18 میں کم ہو کر 3.6 رہ گئی، جبکہ تازہ ترین گھریلو مربوط معاشی سروے 2024-25 کے مطابق بھی یہ شرح 3.6 ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم پاکستان کی ترقیاتی ضروریات کے مقابلے میں اس کی رفتار اب بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے۔
اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک آبادی 38 کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے تعلیم،صحت، رہائش، روزگار، پانی، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے اور قومی مالی وسائل پر شدید دباؤ بڑھے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آبادی سے متعلق نتائج دراصل طرزِ حکمرانی کے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور شرحِ پیدائش سے متعلق ذمہ داریاں مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں میں تقسیم ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی سے متعلق پالیسیوں کی کبھی کمی نہیں رہی، اصل ضرورت ایسے مؤثر نظام کی تھی جو تمام متعلقہ اداروں کو ایک قومی سمت پر متحد کر سکے۔انہوں نے کہا کہ اسی ضرورت کے پیش نظر قومی آبادی کونسل کا قیام ایک اہم انتظامی اور ادارہ جاتی اصلاح ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سربراہی میں قائم قومی آبادی کونسل میں چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت، اہم وفاقی وزراء، عسکری قیادت اور متعلقہ قومی اداروں کی نمائندگی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا آبادی کے موضوع پر قائم ہونے والا اعلیٰ ترین قومی فورم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری قیادت کی شمولیت کسی ادارہ جاتی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ ریاست آبادی کے مسئلے کو ایک قومی ترجیح اور مشترکہ چیلنج کے طور پر دیکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی آبادی کونسل کا مقصد آبادی سے متعلق اعداد و شمار اور شواہد کو مربوط قومی پالیسی اور مؤثر عملدرآمد میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مختلف ادارے الگ الگ اقدامات کے بجائے ایک متحد قومی حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آبادی میں استحکام خود منزل نہیں بلکہ آبادیاتی فوائد حاصل کرنے کا نقطۂ آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب بھی یہ موقع موجود ہے کہ اپنی نوجوان آبادی کو معاشی ترقی کی محرک قوت میں تبدیل کرے، بشرطیکہ درست ترجیحات اور بروقت پالیسیاں اختیار کی جائیں۔ اس کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسائی بڑھانا، زچہ و بچہ کی صحت بہتر بنانا، بچیوں کی تعلیم کو یقینی بنانا، خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانا، نوجوانوں کو مہارتیں فراہم کرنا اور پیداواری روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان آبادی کے دباؤ کو معاشی طاقت میں تبدیل کر سکتا ہے، بصورت دیگر یہی دباؤ مستقبل میں مالی اور سماجی بوجھ میں اضافہ کرے گا۔احسن اقبال نے خبردار کیا کہ بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر وہ سال جس میں آبادی کی منصوبہ بندی کو ترجیح نہیں دی جاتی، پاکستان آبادیاتی فوائد حاصل کرنے کے ایک قیمتی موقع سے مزید دور ہو جاتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی نوجوان نسل کو معیاری تعلیم، بہتر صحت، باعزت روزگار اور بہتر مستقبل کے انتخاب کے مواقع فراہم کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آبادی کی پالیسی کا مقصد صرف اعداد و شمار میں تبدیلی نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں نوجوانوں کی امنگیں اور قومی ترقی کے اہداف ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صنفی مساوات آبادی کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری اور خاندان کے حجم سے متعلق فیصلوں میں ان کا مؤثر کردار آبادی میں استحکام اور پائیدار ترقی کے اہم ترین عوامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنی نصف آبادی کو ترقی کے عمل سے الگ رکھ کر آبادیاتی فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی لیے تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی، بچیوں کی تعلیم اور خواتین کے لیے معاشی مواقع میں توسیع نہ صرف سماجی انصاف بلکہ مضبوط معیشت اور مؤثر قومی منصوبہ بندی کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔ احسن اقبال نے اڑان پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبادی کاموضوع حکومت کے وسیع تر ترقیاتی وژن کا بنیادی جزو ہے، خصوصاً مساوات اور بااختیار بنانے کے قومی ایجنڈے کے تحت، جس میں خواتین، بچوں، نوجوانوں، تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف آبادی میں اضافے کی رفتار کو کم کرنا نہیں بلکہ ہر پاکستانی بچے کو بہتر صحت، معیاری تعلیم، مناسب غذائیت اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ضروری مواقع فراہم کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام ہیں اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ان کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ آبادی کا مؤثر انتظام لوگوں کو محدود کرنا نہیں بلکہ ان کے لیے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم، بہتر صحت، مناسب غذائیت اور اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار کا مساوی حق حاصل ہونا چاہیے۔ پاکستان کا مستقبل آبادی کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے عوام کے معیار، استعداد اور صلاحیت سے متعین ہوگا۔
عالمی یومِ آبادی کے موقع پر وفاقی وزیر نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ارکانِ پارلیمان، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، جامعات، نجی شعبے، ذرائع ابلاغ، علمائے کرام اور مقامی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دارانہ والدین، باخبر فیصلہ سازی، خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کے لیے مواقع کی فراہمی اور پائیدار ترقی پر مبنی مشترکہ قومی کاوش میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور ریاستی اداروں کے مکمل عزم کے ساتھ پاکستان آبادی کے موجودہ چیلنج کو مضبوط انسانی سرمایہ، پائیدار خوشحالی اور دیرپا قومی استحکام کے ایک سنہری موقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔







