ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام پہلے ہی غربت، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ما لاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام پہلے ہی غربت، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے، خیبرپختونخوا میں روزگار کے محدود مواقع، صنعتوں کی کمی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فقدان کے باعث عوام مزید مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے

پشاور۔ 11 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ما لاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے عوام پہلے ہی غربت، بدامنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے، خیبرپختونخوا میں روزگار کے محدود مواقع، صنعتوں کی کمی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فقدان کے باعث عوام مزید مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتے، لہٰذا مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیناچاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ما لاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام چکدرہ میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے ڈویژنل صدر و سابق صوبائی وزیر ملک جہانزیب، سابق وفاقی وزیر مملکت شہاب الدین، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل حسین شاہ خان یوسفزئی، سابق گورنر شوکت اللہ خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل انجینئر ہمایوں خان، صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا، پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر، سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان، سابق وزیر مملکت ملک عظمت خان، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر سراج الدین، سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان، ٹریڈ یونین ملاکنڈ ڈویژن کے صدر عبدالرحیم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کریں اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس کرانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اس معاملے میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں تو واضح طور پر بتائیں، پھر وہ خود اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ما لاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں، تاجر برادری اور عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر آئینی اور جمہوری انداز میں جدوجہد کرنا ہوگی۔ گورنر نے کہا کہ سابق فاٹا کے لیے وفاق کی جانب سے اعلان کردہ سو ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔

گورنر نے صوبائی حکومت کی جانب سے میڈیا سے متعلق مجوزہ قانون کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد صحافت عوام کی آواز ہوتی ہے اور اسے کسی بھی قانون کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔ کانفرنس سے مختلف سیاسی و تجارتی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ مقررین نے ٹیکس کے خلاف بھرپور، پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تمام سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں نے اس مسئلے پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر اتفاق بھی کیا۔

 

مزید خبریں