وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیکورٹی کی صورتحال کاجائزہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ہفتہ کو وزیر اعلیٰ ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فورم نے موجودہ سیکورٹی ماحول کا جائزہ لیا، جس میں امن و امان، تازہ ترین خطرات اور انٹیلیجنس پر مبنی سیکورٹی اقدامات اور انٹیگریٹڈ ریسپانس فریم ورک پلان (IFRP) سے متعلق اپ ڈیٹس شامل تھیں۔

کراچی۔ 11 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں سیکورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ہفتہ کو وزیر اعلیٰ ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فورم نے موجودہ سیکورٹی ماحول کا جائزہ لیا، جس میں امن و امان، تازہ ترین خطرات اور انٹیلیجنس پر مبنی سیکورٹی اقدامات اور انٹیگریٹڈ ریسپانس فریم ورک پلان (IFRP) سے متعلق اپ ڈیٹس شامل تھیں۔ وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ہ اجلاس میں صوبائی وزرائ، سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام اور فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

شرکاء کو موجودہ سیکورٹی منظرنامے، دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں،اور صوبے بھر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ فورم نے ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیاریوں اور جوابی طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، شرکا ء نے سندھ کے عوام کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں سیکورٹی خطرات سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، بروقت انٹیلیجنس شیئرنگ، اور پیشگی/فعال اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ فورم نے دہشت گردوں، مجرمانہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے، امن برقرار رکھنے اور ریاست کی رٹ کو مضبوط کرنے کے لیے قریبی ہم آہنگی میں کام جاری رکھیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعائون کو سراہا اور ہدایت کی کہ صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مربوط کوششوں کو مزید بڑھایا جائے۔

مزید خبریں