دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے، آبی حقوق کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوتی ذمہ داریوں اور سرحد پار دریائوں کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کراچی۔ 11 جولائی (اے پی پی):وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوتی ذمہ داریوں اور سرحد پار دریائوں کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ہفتہ کووزیر اعلی ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی انتظام نہیں بلکہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو جنگوں اور دہائیوں کی علاقائی کشیدگیوں میں بھی برقرار رہا،بھارت کے پاس اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہے،دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ اور سندھ کی روح ہے، اس پر کوئی بھی جارحیت پاکستان اور سندھ کے عوام پر جارحیت تصور ہوگی۔ سیدمراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے مضبوط آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سفارتی، قانونی، آئینی اور جمہوری طریقوں اور مکمل قومی یکجہتی کے ساتھ اپنے دریا کا دفاع کریں گے،عالمی برادری معاہدوتی ذمہ داریوں کا احترام یقینی بنائے اور پانی کو سیاسی دبا ئوکے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو مسترد کرے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام دریائے سندھ اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں متحد ہیں۔

 

مزید خبریں