"وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ سے متعلق فریقین کو سنے بغیر دیا گیا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے سابقہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کے مطابق معاملے پر دوبارہ سماعت کی جائے گی۔”
وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں مسماری کا فیصلہ واپس لینے کا تحریری حکم جاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر قائم مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے سے متعلق سابقہ فیصلہ واپس لینے کا آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فریقین کو سنے بغیر کیا گیا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا جبکہ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کے باعث انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونال ریسٹورنٹ کی لیز اور زمین کی ملکیت کا تنازع سول عدالت میں زیر سماعت تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے سول عدالت کے فیصلے سے قبل ہی آئینی درخواست پر فیصلہ دے دیا۔ فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے بھی سول اور ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو اپنے فیصلے سے غیر موثر قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا، حالانکہ قانونی غلطی کی اصلاح کے بجائے اس پر مہر ثبت کر دی گئی۔عدالت نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارگلہ ہلز پر قائم ریسٹورنٹس کے خلاف آبزرویشنز دیتے ہوئے انکوائری کا حکم بھی جاری کیا جبکہ جن ریسٹورنٹس کے خلاف فیصلہ دیا گیا وہ مقدمے میں فریق ہی نہیں تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ نے سول عدالت کا دائرہ اختیار استعمال کرتے ہوئے شواہد ریکارڈ کیے بغیر حتمی نتائج اخذ کیے جو قانون کے مطابق نہیں تھا۔وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ نظرثانی کی کارروائی میں بھی سپریم کورٹ نے فریقین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موثر موقع فراہم نہیں کیا جبکہ ججز کے حلف کا تقاضا ہے کہ وہ آئین اور قانون کا تحفظ کریں اور اپنے فیصلوں میں موجود قانونی غلطیوں کی اصلاح کریں۔فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز پر دی گئی تمام لیزیں منسوخ کرنے کا فیصلہ قانون کے منافی تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مارگلہ ہلز کے متعلق دائرہ اختیار کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا ہے، لہٰذا جمع شدہ کرایہ وائلڈ لائف بورڈ کو دینے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وائلڈ لائف ایکٹ کا درست قانونی جائزہ نہیں لیا جبکہ مونال کی لیز اور زمین کی ملکیت سے متعلق تنازع کا فیصلہ سول عدالت قانون کے مطابق شواہد کی بنیاد پر کرے گی۔








