"وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے خاتون افسر کے خلاف صنفی امتیاز اور تضحیک آمیز مہم چلانے پر ملزم کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ خواجہ سرا برادری سے منسوب اصطلاحات کو بطور تضحیک استعمال کرنا امتیازی اور ناقابل قبول رویہ ہے۔”
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا خاتون افسر کے خلاف تضحیک آمیز مہم پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے محکمانہ رقابت کے دوران ایک خاتون افسر کے خلاف تضحیک آمیز اور صنفی امتیاز پر مبنی مہم چلانے کے الزام میں ملزم پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خواجہ سرا برادری سے منسوب اصطلاحات کو بطور تضحیک استعمال کرنا نہ صرف امتیازی رویہ ہے بلکہ ایک پیشہ ورانہ ماحول میں ناقابل قبول عمل بھی ہے۔
وفاقی محتسب کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کے خلاف منظم انداز میں متعدد توہین آمیز پیغامات آن لائن شائع کیے، بار بار تضحیک آمیز اصطلاحات استعمال کیں اور ایک جعلی کتاب کا عنوان، فرضی مصنف اور اشاعتی تفصیلات گھڑ کر شکایت کنندہ کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ شکایت کنندہ اولاد پیدا کرنے سے قاصر تھیں، اس لیے ملزم نے اس ذاتی معاملے کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں بار بار خواجہ سرا برادری سے تشبیہ دی جسے شکایت کنندہ کے خلاف تذلیل آمیز مہم کا بنیادی دستاویزی ثبوت قرار دیا گیا۔وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ محض نسلی یا لسانی حوالوں کا استعمال ہر صورت ہراسیت نہیں ہوتا تاہم اس مقدمے میں ملزم نے شعوری طور پر ایک شناخت شدہ دفتری حریف کے خلاف صنفی بنیادوں پر تضحیک آمیز زبان کو بطور ہتھیار استعمال کیا جو تحفظ انسداد ہراسیت ایکٹ کی دفعہ 2(h) میں بیان کردہ امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواجہ سرا شناخت سے منسوب اصطلاحات کو بطور تضحیک استعمال کرنا صرف ناشائستہ زبان نہیں بلکہ یہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو فروغ دیتا ہے اور معاشرے کے ایک تاریخی طور پر محروم اور کمزور طبقے کے خلاف امتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے جس کی کسی بھی پیشہ ورانہ ماحول میں کوئی گنجائش نہیں۔وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ ملزم کے طرز عمل سے شکایت کنندہ کے دفتری وقار، اعتماد اور خودمختاری کو نقصان پہنچا اور دفتر میں معاندانہ اور ناموافق ماحول پیدا ہوا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ قائدانہ عہدوں پر فائز خواتین کے خلاف اس نوعیت کا امتیازی رویہ نہ صرف متعلقہ خاتون بلکہ مجموعی طور پر خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں شرکت کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔وفاقی محتسب نے ایکٹ کی دفعہ 4(4)(ii)(e) کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملزم پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جس میں سے چار لاکھ روپے شکایت کنندہ کو وقار مجروح ہونے اور ذہنی اذیت کے ازالے کے لیے بطور معاوضہ ادا کرنے جبکہ ایک لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔








