راولپنڈی کی مصروف ترین شاہراہ پشاور روڈ پر تقریباً 8 ارب روپے لاگت سے جاری سگنل فری کوریڈور منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے
راولپنڈی،پشاور روڈ پر سگنل فری کوریڈور منصوبہ تیزی سے جاری، دو ماہ میں تکمیل کی توقع

مزید خبریں
راولپنڈی۔15جولائی (اے پی پی):راولپنڈی کی مصروف ترین شاہراہ پشاور روڈ پر تقریباً 8 ارب روپے لاگت سے جاری سگنل فری کوریڈور منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ ہائی وے ڈویژن راولپنڈی کے مطابق تین انڈر پاسز پر مشتمل 18 ماہ کے منصوبے کے تقریباً 80 فیصد ضمنی کام مکمل کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ سرگرمیوں کی تکمیل کے بعد منصوبہ آئندہ دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے جس سے اسلام آباد ایکسپریس وے سے موٹروے چوک تک ٹریفک کی روانی مزید بہتر ہوگی اور شہریوں کو بلا تعطل سفری سہولتیں میسر آئیں گی۔ہائی وے ڈویژن راولپنڈی کے ایک اعلیٰ افسر نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ منصوبے سے وابستہ تقریباً 80 فیصد ضمنی کام مکمل ہو چکا ہے جس میں نکاسی آب کے نظام کی تعمیر، بجلی کی کیبلوں کی منتقلی اور دیگر ضروری کام شامل ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کا یہ منصوبہ شہر کی مرکزی شاہراہ کو سگنل فری بنا کر بڑی آبادی کو جدید اور بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔قاسم مارکیٹ میں ٹریفک پولیس کے دفتر کے سامنے ترقیاتی کام کے لیے استعمال ہونے والی بھاری مشینری کا بیس کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں سے تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اور مشینری کی نقل و حرکت جاری ہے۔
اسی طرح قاسم مارکیٹ سے ریڈیو پاکستان سٹاپ تک صدر سے پشاور جانے والی سروس روڈ کی تعمیر کے لیے کھدائی کا کام جاری ہے جبکہ پشاور سے صدر آنے والی سڑک پر رافع مال سے لین فور تک سروس روڈ کے حصے پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔پنجاب حکومت کے سگنل فری کوریڈور منصوبے کے تحت پشاور روڈ پر مختلف مقامات پر انڈر پاسز، سروس روڈز اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ٹریفک کا دبائو کم ہو اور سفر زیادہ محفوظ، تیز اور آسان بنایا جا سکے۔اگرچہ تعمیراتی کام کے دوران بعض اوقات ٹریفک کی رفتار متاثر ہوتی ہے تاہم شہری اس منصوبے کو شہر کی ترقی اور بہتر ٹریفک نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ منصوبے کی بروقت اور معیاری تکمیل سے پشاور روڈ راولپنڈی کی جدید ترین اور رواں ٹریفک والی شاہراہوں میں شامل ہو جائے گی جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں افراد کو طویل المدتی سہولت میسر آئے گی۔








