مصنوعی طور پر سپلائی چینز کو منقطع کرنے سے تمام فریقین کے اخراجات بڑھیں گے،چین

چین نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز مشترکہ مفادات کی ایک ایسی زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں

بیجنگ۔15جولائی (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی سپلائی چینز مشترکہ مفادات کی ایک ایسی زنجیر بن چکی ہیں جس میں تمام فریق ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، جہاں ایک کی ترقی سب کے لیے فائدہ مند اور ایک کا نقصان سب کو متاثر کرتا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق یہ بات چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نےبدھ کو یومیہ پریس کانفرنس میں عالمی سپلائی چینز کے مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی طریقوں سے سپلائی چینز کو منقطع کرنے

تحفظ پسند رکاوٹیں کھڑی کرنے اور سپلائی چینز کی زبردستی ازسرنو تشکیل کی کوششیں نہ صرف بھاری معاشی اخراجات کا باعث بنیں گی بلکہ مارکیٹ کے اصولوں اور کاروباری اداروں کے آزادانہ انتخاب کے بھی خلاف ہیں۔ اس کے نتیجے میں تمام فریق زیادہ قیمت ادا کریں گے اور کم فوائد حاصل کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ چین اعلیٰ معیار کے کھلے پن کی پالیسی کو مسلسل وسعت دیتا رہے گا اور اپنی وسیع مارکیٹ، مکمل صنعتی نظام اور دیگر نمایاں برتریوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دنیا کو مستحکم انداز میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور تعاون کے مزید مواقع فراہم کرتا رہے گا۔

مزید خبریں