او آئی سی کا فلسطینی اصلاحاتی اقدامات کا خیرمقدم

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے اسرائیلی حملوں، قبضے اور دیگر سنگین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کے نفاذ میں پیش رفت کو سراہا ہے۔ فلسطینی نیوز ایجنسی وافا کے مطابق او آئی سی کے معاون سیکرٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے

برسلز۔15جولائی (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے اسرائیلی حملوں، قبضے اور دیگر سنگین چیلنجز کے باوجود فلسطینی ریاست کی جانب سے ادارہ جاتی، انتظامی اور مالی اصلاحات کے نفاذ میں پیش رفت کو سراہا ہے۔ فلسطینی نیوز ایجنسی وافا کے مطابق او آئی سی کے معاون سیکرٹری جنرل برائے فلسطین و القدس امور سمیر بکر نے برسلز میں فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ، یورپی کمیشن کی کمشنر ڈوبراوکا شوئیکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کیلس کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ دو ریاستی حل کو محفوظ بنانے اور اس پر عمل درآمد کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو ادارہ جاتی اور مالی طور پر مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ او آئی سی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے تمام روکے گئے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی فوری اور بغیر کسی شرط کے جاری کرے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ فلسطینی اتھارٹی شدید مالی بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث اس کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا اور صحت، تعلیم اور سماجی بہبود سمیت بنیادی عوامی خدمات فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

تنظیم نے بین الاقوامی شراکت داروں اور امداد فراہم کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ریاست فلسطین کو فوری مالی معاونت فراہم کریں اور فلسطینی آمدنی کی مسلسل بندش کے سنگین نتائج کا نوٹس لیں۔او آئی سی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین( یو این آر ڈبلیو اے )کو اسرائیل کی جانب سے مسلسل نشانہ بنانے، غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں توسیع، فلسطینی علاقوں کے الحاق، جبری بے دخلی اور غزہ کی ناکہ بندی کی بھی مذمت کی۔ تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر فوری عمل درآمد شروع کرے جس میں غزہ پٹی سے مکمل انخلا، سرحدی گزرگاہوں کا کھلنا اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی شامل ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام اور فلسطینی سرزمین کی قانونی، سیاسی اور ادارہ جاتی وحدت ( institutional unity ) ریاست فلسطین کی حکومت کی قیادت میں برقرار رہنی چاہیے۔

مزید خبریں