انتہا پسندی سے مالی فائدہ، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بھارت میں نفرت انگیز موسیقی کی فنڈنگ کا انکشاف

واشنگٹن میں قائم غیر جانبدار تحقیقی ادارے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے کہا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور بڑے کارپوریٹ برانڈز مبینہ طورپر بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز موسیقی کی میزبانی، تشہیر اور اس سے مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):واشنگٹن میں قائم غیر جانبدار تحقیقی ادارے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے کہا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور بڑے کارپوریٹ برانڈز مبینہ طورپر بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز موسیقی کی میزبانی، تشہیر اور اس سے مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔ ادارہ کی جانب سے Profiting from Hate Music: The Role of YouTube, Meta, Spotify, and Apple Music in Hosting and Monetizing India’s Hate Music Industry” کے عنوان سے جاری تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی تشہیر اور اس سے آمدن کا حصول سماجی ہم آہنگی اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک جیسے پلیٹ فارمز پر موجود "ہندوتوا پاپ” (H-Pop) نامی موسیقی کی ایک صنف مبینہ طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت، تعصب اور تشدد کو ہوا دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے جنوری 2026 کے دوران مجموعی طور پر 523 نفرت انگیز ہندوتوا پاپ گانوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 210 یوٹیوب، 109 اسپاٹیفائی، 103 میٹا کی میوزک لائبریری اور 101 ایپل میوزک پر موجود تھے۔

تحقیق کے مطابق صرف یوٹیوب پر ان گانوں کو 19 کروڑ 80 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا جبکہ میٹا کی میوزک لائبریری میں موجود گانوں کو 59 لاکھ سے زیادہ انسٹاگرام ریلز میں استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 523 میں سے 263 گانوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف براہِ راست تشدد، حملوں یا انہیں ملک سے نکالنے کی کھلی ترغیب دی گئی ہے تاکہ بھارت کو صرف ہندوؤں کی ریاست بنایا جا سکے۔ صرف یوٹیوب پر موجود 104 گانوں میں مبینہ طور پر تشدد پر اکسانے یا دھمکی آمیز پیغامات شامل تھےجنہیں 9 کروڑ 70 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔تحقیق کے مطابق باقی گانوں میں اگرچہ براہِ راست تشدد کی اپیل نہیں کی گئی تاہم ان میں اقلیتوں کے خلاف توہین آمیز زبان، نفرت انگیز القابات اور سازشی نظریات کے ذریعے مذہبی منافرت کو فروغ دیا گیا جو حقیقی زندگی میں تشدد کے ماحول کو جنم دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا پاپ انڈسٹری کو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرپرستی حاصل ہےجس کے باعث یہ موسیقی سیاسی اور سماجی تقسیم پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔

تحقیق میں اس آن لائن رجحان کو ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے بھی جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اشتعال انگیز گانے مذہبی جلوسوں اور مساجد کے باہر ہونے والی ریلیوں میں باقاعدگی سے بجائے جاتے ہیں جن کا تعلق متعدد جان لیوا فرقہ وارانہ واقعات سے جوڑا گیا ہے۔سی ایس او ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راقیب نائیک نے کہا کہ نفرت انگیز موسیقی اجتماعی تشدد کے خطرناک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور تاریخ اس کے تباہ کن نتائج روانڈا اور میانمار سمیت کئی ممالک میں دیکھ چکی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں ہندوتوا پاپ کی غیر معمولی رسائی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے شریک مصنف اور آزاد صحافی کنال پروہت نے دعویٰ کیا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک جانب بھارتی حکومت پر تنقید کرنے والے مواد کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے رہے جبکہ دوسری جانب مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے مواد کو نہ صرف جگہ دیتے رہے بلکہ اس کی تشہیر اور مالی معاونت بھی کرتے رہے۔ تحقیق کے دوران محققین نے پلیٹ فارمز کے شکایتی نظام کے ذریعے 225 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی کی، تاہم صرف 18 گانےہٹائے گئے جبکہ 90 فیصد سے زائد مواد بدستور آن لائن موجود رہا۔

رپورٹ کے اختتام پر یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک سمیت متعلقہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مواد سے متعلق پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کریں، نفرت انگیز اور کوڈ شدہ تقاریر کی مؤثر نشاندہی کریں اور نفرت انگیز موسیقی کی تشہیر اور اس سے مالی منفعت کے عمل کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔