بچھڑوں میں کمزور نشوونما قابلِ تدارک مسئلہ ہے، ڈاکٹر فرحین

محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب کی ترجمان ڈاکٹر فرحین نے کہا ہے کہ بچھڑوں میں کمزور نشوونماایک عام مگر قابلِ تدارک مسئلہ ہے، جو بروقت توجہ نہ دینے کی صورت میں جانور کی صحت

فیصل آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب کی ترجمان ڈاکٹر فرحین نے کہا ہے کہ بچھڑوں میں کمزور نشوونماایک عام مگر قابلِ تدارک مسئلہ ہے، جو بروقت توجہ نہ دینے کی صورت میں جانور کی صحت، پیداواری صلاحیت اور فارم کی آمدنی کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچھڑوں کی کمزور نشوونما کی بڑی وجوہات میں ابتدائی دنوں میں کولوسٹرم (پہلا دودھ) نہ پلانا، متوازن خوراک کی کمی، معدنیات اور وٹامنز کی کمی، آنتوں کے کیڑے، مختلف بیماریوں اور غیر موزوں رہائشی ماحول شامل ہیں۔ اس مسئلے کی نمایاں علامات میں عمر کے لحاظ سے جسمانی بڑھوتری کا کم ہونا، کمزور اور سست دکھائی دینا، وزن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا، بھوک میں کمی اور دیگر بچھڑوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر پیچھے رہ جانا شامل ہیں اسلئے محکمہ لائیوسٹاک نے مویشی پال حضرات کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے

کہ وہ پیدائش کے فوراً بعد بچھڑے کو معیاری کولوسٹرم پلائیں، مناسب عمر میں کالف اسٹارٹر خوراک کا آغاز کریں، متوازن غذا کے ساتھ ضروری منرلز اور وٹامنز فراہم کریں، باقاعدگی سے کیڑوں کے خاتمے کا پروگرام اپنائیں، جانوروں کو صاف، خشک اور ہوا دار ماحول میں رکھیں اور بیماری کی صورت میں فوری طور پر قریبی ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچھڑوں کی زندگی کے ابتدائی تین ماہ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران مناسب خوراک، بہتر نگہداشت اور بروقت طبی معائنہ نہ صرف کمزور نشوونما سے بچاتا ہے بلکہ مستقبل میں صحت مند، مضبوط اور زیادہ پیداواری جانور کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ محکمہ لائیوسٹاک نے مزید رہنمائی کے لیے اپنی 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن 08000-9211 پر بھی رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید خبریں