"سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2026 کی منظوری دے دی”
قائمہ کمیٹی خزانہ و محصولات نے ’’نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2026‘‘ کی منظوری دیدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے ’’نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2026‘‘ کی منظوری دے دی جبکہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فنانس بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کی تقریباً 43 فیصد سفارشات بل میں شامل کی جا چکی ہیں اور کمیٹی کی مجموعی سفارشات میں سے 21.6 فیصد پر بھی عمل درآمد کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر رہی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ’’نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2026‘‘ کا جائزہ لیا جسے 15 مئی 2026ء کو سینیٹ کے اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا۔بریفنگ کے دوران پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ نیٹنگ سے متعلق قوانین دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں اور دیوالیہ پن کی صورت میں قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے مخصوص مالیاتی معاہدوں کے تحت خالص بنیادوں پر تصفیے کو ممکن بناتے ہیں جس سے مالیاتی لین دین میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ نمائندوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ قانون بینکاری شعبے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اس کے نفاذ سے پاکستان کا مالیاتی شعبہ مزید مضبوط ہوگا اور اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے گا۔وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بل کی تیاری کے دوران تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2026 کی منظوری دے دی۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں منظور شدہ اور خالی آسامیوں سے متعلق معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مستحقین کو مالی معاونت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جائے گی جو جاری ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بی آئی ایس پی سمیت تمام سرکاری اداروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال بی آئی ایس پی ادائیگیوں کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کے پاس اپنا مستقل آپریشنل عملہ موجود نہیں اور وہ اس وقت ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کے ذریعے کام چلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ادائیگیاں بینکاری نظام کے ذریعے کی جا رہی ہیں تاہم پروگرام کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو موثر انداز میں نبھانے کے لیے مستقل آپریشنل عملے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تاثر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بی آئی ایس پی کو مزید ملازمین کی ضرورت نہیں۔سینیٹ سیکریٹریٹ کے ڈائریکٹر سٹاف اور پرائیویٹ سیکرٹریز کی نظرثانی شدہ پے سلپس کے اجراء سے متعلق معاملے پر بھی کمیٹی نے غور کیا۔ اے جی پی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے عمل درآمد کے لیے مزید وقت طلب کیا جس پر کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر مسئلہ حل کیا جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مقررہ مدت کے بعد اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ٹینیور ٹریک سسٹم (ٹی ٹی ایس) کے تحت خدمات انجام دینے والے اساتذہ اور پروفیسرز کی تنخواہوں کے معاملے پر بھی کمیٹی نے تفصیلی بحث کی۔ تمام متعلقہ فریقوں کا موقف سننے کے بعد وزیر مملکت برائے خزانہ نے معیاری اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کو مسابقتی تنخواہیں فراہم کرنے کی اہمیت کو تسلیم کیا تاہم بعض امور کو مزید غور طلب قرار دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ہائر ایجوکیشن کمیشن، وزارت خزانہ اور وزارت قانون و انصاف مشترکہ طور پر اس معاملے کا جامع جائزہ لے کر اتفاق رائے پر مبنی تجاویز تیار کریں گی۔کمیٹی نے بجٹ اجلاس 2025 کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں تعینات طبی عملے کو پانچ ماہ کی بنیادی تنخواہ کے مساوی اعزازیہ دینے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وزارت قومی صحت نے ان افسران کے نام بھی فہرست میں شامل کر دیئے تھے جو بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہائوس میں تعینات نہیں تھے۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ غیر مستحق افراد کے نام خارج کر کے نظرثانی شدہ فہرست پیش کی جائے تاکہ اہل ملازمین کو اعزازیہ جلد ادا کیا جا سکے۔کمیٹی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے عبدالرزاق کی جانب سے یو بی ایل کے موبائل ایپ کے ذریعے اکائونٹ سے نکالی گئی رقم کی واپسی سے متعلق شکایت پر بھی بریفنگ حاصل کی۔ سٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت بینکنگ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ شکایت کنندہ اور متعلقہ حکام کا موقف سننے کے بعد کمیٹی نے عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک مزید غور موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔وزارت خزانہ نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فنانس بل سے متعلق تقریباً 43 فیصد سفارشات بل میں شامل کی جا چکی ہیں جبکہ کمیٹی کی مجموعی سفارشات میں سے 21.6 فیصد پر بھی عمل درآمد کیا گیا ہے۔کمیٹی نے سینیٹر دنیش کمار کے اس سوال پر بھی غور کیا جس کا تعلق وزارت خزانہ و محصولات کے ماتحت سرکاری اداروں، ریگولیٹری باڈیز، منسلک محکموں اور ذیلی دفاتر کے سربراہان کی تقرریوں، ملازمت کی شرائط، ڈومیسائل، تقرری کے طریقہ کار، تنخواہوں، الائونسز اور مراعات سے تھا۔ وزارت کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے قرار دیا کہ سوال کنندہ کو مطلوبہ تمام معلومات فراہم کر دی گئی ہیں، لہٰذا معاملہ نمٹا دیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود، سینیٹر شازیب درانی، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر روبینہ خالد، سینیٹر جان محمد، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے)، اکائونٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر)، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے نمائندوں اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








