یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کی تعریف
یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کی تعریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کی تازہ جائزہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی اہمیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور خصوصی تجارتی سہولت کے تحت مسلسل پیش رفت کو سراہا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید ملک برقرار ہے جس کے نتیجے میں برآمدات، صنعتی پیداوار اور روزگار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستانی برآمد کنندگان نے اس ترجیحی تجارتی اسکیم سے بھرپور استفادہ کیا، جس کے باعث یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بن گئی۔ سال 2024 کے دوران پاکستان نے 7.482 ارب یورو کی اہل برآمدات میں سے 7.115 ارب یورو پر تجارتی مراعات حاصل کیں جو 95.1 فیصد کے غیر معمولی استعمال کی شرح کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کو 2024 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حصہ موصول ہوا جبکہ پاکستان کو 732 ملین یورو کی براہ راست ٹیرف رعایت حاصل ہوئی۔ اس رعایت نے ملبوسات، ٹیکسٹائل، چمڑے، تیار شدہ غذائی مصنوعات اور دیگر مینوفیکچرنگ جیسے محنت کش صنعتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا جہاں مراعات کے استعمال کی شرح 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد کے درمیان رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس سے منسلک 27 بنیادی بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق برقرار رکھتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے، اقوام متحدہ کو بروقت رپورٹس جمع کرائیں اور 2025 کے آخر میں یورپی یونین کے مانیٹرنگ مشن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔
انسانی حقوق اور انصاف کے شعبے میں رپورٹ کے مطابق نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کو 2024 میں جی اے این ایچ آر آئی کا اے اسٹیٹس حاصل ہوا۔ مزید برآں پاکستان نے سزائے موت کے دائرہ کار سے چار جرائم خارج کیے، دسمبر 2019 سے پھانسیوں پر عمل درآمد معطل رکھا جبکہ اکتوبر 2025 میں صدارتی معافی بھی دی گئی۔ ملک میں جیل اصلاحات، انسدادِ تشدد قوانین پر عمل درآمد اور سپریم کورٹ میں زیر التوا اپیلوں میں کمی کے حوالے سے بھی پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق سماجی، مزدور اور ماحولیاتی شعبوں میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ گھریلو تشدد سے متعلق قوانین تمام صوبوں اور اسلام آباد میں مکمل کیے گئے، سندھ میں ازدواجی زیادتی(میریٹل ریپ) کے مقدمے میں پہلی سزا سنائی گئی جبکہ مختلف علاقوں میں کم عمری کی شادی کے خلاف اصلاحات نافذ کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے سماجی تحفظ اور تعلیمی نظام میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ اساتذہ کی بھرتیوں، بند سکولوں کی بحالی اور اسلام آباد میں سکول سے باہر 30 ہزار تک بچوں کے داخلوں کے ذریعے تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا گیا۔مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان نے مارچ 2025 میں جبری مشقت سے متعلق آئی ایل او پروٹوکول کی توثیق کی، ضلعی نگرانی کمیٹیاں قائم کیں اور قومی اجرت اصلاحاتی منصوبہ متعارف کرایا۔
رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی شعبے میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی کنونشن (UNFCCC) کے تحت اہم رپورٹنگ ذمہ داریاں پوری کیں جبکہ جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قوانین کی مؤثر عملداری کے باعث پاکستان کو CITES کی کیٹیگری ون کا درجہ بھی حاصل ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون صرف تجارتی مراعات تک محدود نہیں بلکہ یورپی یونین نے 2021 سے 2027 کے دوران 400 ملین یورو کی مالی معاونت بھی مختص کر رکھی ہے جو گرین گروتھ، تعلیم، قانون کی حکمرانی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، انسانی وسائل کی ترقی، مہارتوں کے فروغ، بہتر طرز حکمرانی اور خواتین کی معاشی شمولیت جیسے شعبوں میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گی۔







