وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی ) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سرمایہ جاتی منڈی کی اصلاحات پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کا اجلاس، سرمایہ جاتی منڈی کی اصلاحات پر تیز رفتار عملدرآمد کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل (سی ایم ڈی سی ) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سرمایہ جاتی منڈی کی اصلاحات پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بالخصوص پاکستان کی کارپوریٹ قرضہ مارکیٹ کی تیز رفتار ترقی اور نجی شعبے کے لئے طویل مدتی مالی وسائل کی فراہمی میں سرمایہ جاتی منڈی کے کردار کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔اجلاس میں پاکستان کی سرمایہ جاتی منڈی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا خصوصاً کارپوریٹ قرضہ مارکیٹ کی ترقی اور متنوع مالیاتی ذرائع تک رسائی بڑھانے پر غور کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اگرچہ ایکویٹی مارکیٹ میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی ہے تاہم کارپوریٹ قرضہ مارکیٹ اب بھی معیشت کی مالی ضروریات کے مقابلے میں خاطر خواہ ترقی نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ قرضہ سرمایہ مارکیٹ کو وسعت دینے، بینکوں پر انحصار کم کرنے، مارکیٹ پر مبنی متنوع مالیاتی ذرائع کو فروغ دینے اور ایسا متوازن و مضبوط مالیاتی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی ضروریات پوری کر سکے۔اجلاس میں پاکستان کی مقامی کرنسی سے منسلک بانڈ مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے جاری بیرونی تحقیقی مطالعے کے دائرۂ کار اور شرائطِ کار (ٹی او آرز) پر بھی غور کیا گیا۔
اس مطالعے میں سرکاری قرض گیری، غیر بینکی مالیاتی اداروں، پرائمری ڈیلر نظام، ثانوی مارکیٹ، مارکیٹ انفراسٹرکچر، ہیجنگ اور ڈیریویٹیوز مارکیٹ کی ترقی سمیت سرمایہ جاتی منڈی کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ نے ہدایت کی کہ اس مطالعے میں عالمی معیار کے تقابلی جائزے کی بنیاد پر قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی سفارشات پیش کی جائیں۔اجلاس میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے ٹاپ 100 لسٹڈ کمپنیوں کو کارپوریٹ قرضہ مارکیٹ تک رسائی میں درپیش مشکلات سے متعلق کئے گئے سرویز اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے اس سلسلے میں کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ صرف بڑی کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے درمیانے درجے کے کاروبار اور ترقی کی صلاحیت رکھنے والے دیگر اداروں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے قرضہ مارکیٹ کی اصلاحات کو تیز کرنے کے لئے ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ایس ای سی پی اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ہدایت کی کہ سینئر انتظامی سطح پر خصوصی ڈیٹ ڈیسک قائم کئے جائیں جن کے واضح اختیارات، قابلِ پیمائش اہداف اور پیشرفت کی نگرانی کی ذمہ داری مقرر ہو۔انہوں نے سرمایہ جاتی منڈی کو مزید مسابقتی اور مؤثر بنانے کے لئے مارکیٹ کے درمیانی اداروں اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے والے اداروں کی استعداد اور باہمی مسابقت بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ مارکیٹ کی کارکردگی بہتر ہو، خدمات کا معیار بلند ہو اور سرمایہ کاروں و قرض حاصل کرنے والوں کے لئے لین دین کی لاگت کم کی جا سکے۔
اجلاس میں ایس ای سی پی ، پاکستان سٹاک ایکسچینج اور سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (سی ڈی سی ) کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے کارپوریٹ قرضہ اجرا کے عمل کو آسان بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے ایک ون ونڈو لسٹنگ فریم ورک، معیاری طریقہ کار، مکمل ڈیجیٹل انضمام اور آسان ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کی ہدایت کی تاکہ نئے اجرا کنندگان کے لئے شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کارپوریٹ قرضہ لسٹنگ کے آسان طریقہ کار کو متعلقہ ادارے اپنی ویب سائٹس پر شائع کریں۔اجلاس میں اسلامی سرمایہ جاتی منڈی کی ترقی، ملکی سکوک مارکیٹ کو وسعت دینے، ثانوی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور ٹریڈنگ بہتر بنانے، گرین اور پائیدار مالیاتی آلات کے اجرا کو فروغ دینے، ٹیکس پالیسی، ایس ایم ایز کی تیاری، مالیاتی آگاہی، ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارمز اور سرمایہ جاتی منڈی تک کاروباری اداروں کی رسائی بڑھانے سے متعلق تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ اب صرف مشاورت کے بجائے عملی اقدامات کا وقت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کونسل کی آئندہ سرگرمیوں کو مختلف اصلاحاتی شعبوں کے تحت خصوصی ورکنگ گروپس کی صورت میں منظم کیا جائے تاکہ فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشاورت، تکنیکی مطالعات اور عالمی بہترین تجربات سے حاصل ہونے والی سفارشات کو واضح ذمہ داریوں، مقررہ مدت، اہداف اور باقاعدہ جائزے کے ساتھ عملی اصلاحات میں تبدیل کیا جائے۔اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی ، سٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان سٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن، پاکستان بزنس کونسل، ٹیکس پالیسی آفس اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔








