وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل چی جنگ یانگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین امیگریشن، بارڈر مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان اور چین کا امیگریشن اور بارڈر مینجمنٹ تعاون، مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری سے چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل چی جنگ یانگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی ہے جس میں دونوں ممالک کے مابین امیگریشن، بارڈر مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات کے دوران غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ کی سمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ امیگریشن پراسیس کو تیز تر بنانے کے لیے ایک معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔
اس موقع پر بارڈر مینجمنٹ اور سکیورٹی کی نگرانی کے لیے ایک ’’پاک چین مشترکہ ورکنگ گروپ‘‘ قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ بارڈر، سی پورٹس اور امیگریشن مینجمنٹ میں چین کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان غیر قانونی امیگریشن اور سمگلنگ کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ان جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، خنجراب پاس پر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے چیک پوسٹ قائم کی جا رہی ہے۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ باہمی تعاون سے سرحدی جرائم کو روکیں گے۔ چینی وفد کے سربراہ چی جنگ یانگ نے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان سٹریٹجک پارٹنر ہیں اور چین پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں تعاون جاری رکھے گا۔ملاقات میں چینی وفد نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو چین کے وزیر داخلہ کی جانب سے ’’پبلک سکیورٹی فورم‘‘ میں شرکت کا دعوت نامہ پیش کیا جبکہ ایف آئی اے کے وفد کو بھی مدعو کیا گیا۔
چینی سفیر نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستانی پولیس افسران اسی ماہ تربیت کے لیے چین جا رہے ہیں جبکہ چینی اساتذہ پاکستان میں سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کو چینی زبان کی خصوصی تربیت فراہم کر رہے ہیں۔اس اہم ملاقات میں چینی سفیر، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد بھی موجود تھے۔








