وفاقی وزیرِ پٹرولیم سے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں کی ملاقاتیں، توانائی ،کریٹیکل منرلزکے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سے بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں نے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وزیر پٹرولیم سے مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تیجارہ کیپٹل کے سی ای او احمد ولید سے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان کے توانائی اور کریٹیکل منرلز کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔ گریگوری بلوم نے کہا کہ بلوچستان میں اہم معدنیات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ مورگن ہیوز انرجی اور تیجارہ کیپٹل مشترکہ طور پر معدنیات کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تیل و گیس کی موجودہ فیلڈز کی پیداوار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مقامی توانائی کی پیداوار بڑھانے اور ذمہ دارانہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ دوسری ملاقات میں ویٹول ایشیا کے چیف ایگزیکٹو کیرن کیرن گالاگر اور ان کی ٹیم نے وفاقی وزیرِ پیٹرولیم سے ملاقات کی۔

اس موقع پر پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیرِ پٹرولیم نے گوادر میں ویٹول کی بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی اور کمپنی کی جانب سے ہائی سلفر فیول آئل (ایچ ایس ایف او) کو ویری لو سلفر فیول آئل میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتےہوئے منصوبے کے لیے حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ملاقات میں حکومت کی نئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت دستیاب مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ویٹول سمیت عالمی توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج انفراسٹرکچر کے قیام پر بات چیت کی تاکہ توانائی کی ترسیلی صلاحیت مضبوط بنائی جا سکے،سٹریٹجک ذخیرہ سازی میں اضافہ ہو اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے۔دونوں ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان عالمی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی کے شعبے میں طویل المدتی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

مزید خبریں