اٹلی نے سپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق اٹلی کی وزارت خارجہ نےمعاہدے کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی عارضی طور پر ہے۔ یہ معطلی ضروری ہو گئی تھی، کیونکہ ہمیں اپنیے یورپی بارڈر کی جانب اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کرنا پڑا ہے۔
اٹلی نے سپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو جزوی طور پر معطل کر دیا

مزید خبریں
روم ۔1اگست (اے پی پی):اٹلی نے سپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق اٹلی کی وزارت خارجہ نےمعاہدے کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی عارضی طور پر ہے۔ یہ معطلی ضروری ہو گئی تھی، کیونکہ ہمیں اپنیے یورپی بارڈر کی جانب اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کرنا پڑا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس’ پر دیا ۔اٹلی کی وزارت داخلہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق اٹلی نے سپین کے ساتھ جڑے بحری اور فضائی داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے، تاہم یہ احتیاطی تدابیر سپین کے شہریوں یا دیگر یورپی ممالک کے شہریوں کی آمد و رفت کو متاثر نہیں کرے گی، وہ سب اٹلی آ سکیں گے۔ترجمان کے مطابق فرانس کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی پیروی میں دونوں ملک اپنے سرحدی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے زیادہ فورس لگا ئیں گے،جیسا کہ پہلے ہی اہتمام کیا جا رہا ہے۔منگل کواٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے سپین سے مطالبہ کیا تھا کہ سپین اپنے شینگن معاہدے کے تحت آنے والے بعض علاقائی امور کو معطل کرے۔
میلونی نے اس سلسلے میں ہزاروں آنے والے تارکین وطن کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا یہ پریشان کن صورت حال ہے۔جبکہ اٹلی کی وزیر خارجہ نے جمعہ کو اس عارضی معطلی کے اقدام کا اعلان کیا اور سرحد کے آر پار آزادانہ آمد و رفت کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقدام ناگزیر ہو گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ امیگرنٹس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کو لازماً مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ تارکین وطن کے اس ناقابل کنٹرول بہاؤ کو یورپی ممالک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔اٹلی کی وزارت داخلہ نے کہا کہ سپین کے ساتھ سرحد پر لگائے گئے چیک کا مقصد صرف یہ ہے کہ سپین سے اٹلی پہنچنے والے غیر یورپی شہریوں کو روکا جا سکے۔ یہ اقدام ایک ماہ تک جاری رہے گا جس کا آغازآج ہفتے سے کیا گیا ہے۔








