پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھائیں گے، جام کمال خان

"وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔”

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھائیں گے، دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مقامی ہوٹل میں ایرانی وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک کے ساتھ 10 ویں پاکستان ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کیا۔فورم سے خطاب میں جام کمال خان نے کہا کہ پاک ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دی جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان بارٹر ٹریڈ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز اور کارگو نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے،مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ جام کمال خان نے کہا کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ تجارت کے لیے تیار ہے، حکومتوں کی ذمہ داری سازگار اور قابلِ اعتماد کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10واں جے ٹی سی اجلاس قابلِ عمل روڈ میپ مرتب کرکے اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ جام کمال نے کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے پاکستان اور ایران کے نجی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، پاک ایران تجارت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے ۔ فورم سے خطاب میں ایران کے وزیر تجارت محمد اتابک نے کہا کہ تجارت کے لئے مشترکہ راستوں کی ضرورت ہے، ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات بالخصوص پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مثبت انداز سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پر عزم ہیں، تجارت اور معیشت کی بہتری کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے ۔ محمد اتابک نے کہا کہ ہم تجارت کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ طویل سٹریٹجک پارٹنرشپ چاہتے ہیں ،دونوں ملکوں کی دوستی کو پائیدار معاشی شراکت داری میں بدلنا ہے ۔ڈاکٹر محمد اتابک نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹک تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ایرانی وزیر نے پاک ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد مکمل ہونے کی امید ظاہر کی۔ڈاکٹر محمد اتابک نے بجلی کی تجارت اور علاقائی رابطوں کو دونوں ممالک کے لیے نئے معاشی مواقع قرار دیا

مزید خبریں