خواتین سائلین کو محفوظ، باوقار اور آسان ماحول کی فراہمی کیلئے ملک بھر کی عدالتوں میں ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

خواتین سائلین کو محفوظ، باوقار اور آسان ماحول کی فراہمی کیلئے ملک بھر کی عدالتوں میں ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ خواتین سائلین کو محفوظ، باوقار، آسان اور معاون ماحول فراہم کرنے کیلئے سال 2026-27 کو خواتین مقدمہ بازوں کی سہولت کا سال قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کی عدالتوں میں ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی رجسٹری میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی خواتین نمائندوں سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ قومی جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے فیصلے کے تحت قائم کیے جانے والے ان مراکز کا مقصد خواتین سائلین کو انصاف تک محفوظ، باوقار اور آسان رسائی فراہم کرنا ہے، جہاں ان کی رازداری، تحفظ، آرام اور سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز میں خواتین کیلئے علیحدہ استقبالیہ اور انتظار گاہ، الگ داخلی راستے، معیاری واش رومز، ثالثی اور متبادل تنازعات کے حل کی سہولیات، نجی مشاورت اور ملاقات کے کمرے، قانونی معاونت، نفسیاتی و سماجی مدد، خصوصی معاونتی اداروں سے رابطے کا نظام، محفوظ ملاقات کی سہولت اور دیگر ضروری خدمات فراہم کی جائیں گی۔چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان نے ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز کے ڈیزائن کیلئے ملک گیر مقابلہ منعقد کیا، جس کے تین بہترین ڈیزائن منتخب کیے گئے ہیں۔ یہ ماڈل ڈیزائن تمام ہائی کورٹس کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان مراکز کے قیام میں یکسانیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملاقات میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکرٹری بھی شریک تھے، جبکہ وفد میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر امیر نواز وڑائچ، جنرل سیکرٹری ارشد شر، حسن بانو، صالح نعیم، فضیلہ منگریو، ناصرہ بروہی اور رخسانہ عمر شامل تھیں۔

خواتین نمائندوں نے خواتین سائلین کی سہولت کیلئے اس اقدام کو سراہتے ہوئے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا اور خواتین کی انصاف تک رسائی اور قانونی پیشے سے متعلق مختلف مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے یقین دلایا کہ متعلقہ ہائی کورٹس اور دیگر اداروں سے مشاورت کے ذریعے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔