محکمہ زراعت نے دھان کی بکائنی کے تدارک بارے ایڈوائزری جاری کر دی

حکمہ زراعت نے دھان کی بکائنی کے تدارک بارے ایڈوائزری جاری کر دی۔ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات آری ڈاکٹر آصف علی نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ دھان کی بکائنی ایک پھپھوندی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس بیماری کے دوران متاثرہ پودے صحت مند پودوں کی نسبت قد میں لمبے، باریک اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔

فیصل آباد۔ 10 اگست (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کی بکائنی کے تدارک بارے ایڈوائزری جاری کر دی۔ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات آری ڈاکٹر آصف علی نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ دھان کی بکائنی ایک پھپھوندی (Fusarium Moniliforme) کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس بیماری کے دوران متاثرہ پودے صحت مند پودوں کی نسبت قد میں لمبے، باریک اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ تنے پر بھورے رنگ کے دھبے بن جاتے ہیں اور تنا وہاں سے گل سڑ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بیماری متاثرہ بیج کی کاشت اور پچھلے سال کے بیماری زدہ پرالی اور مڈھ (Plant Debris) کھیت میں موجود ہونے سے پھیلتی ہے۔

شدید متاثرہ پودے کے پتے نیچے سے شروع ہو کر اوپر تک سوکھ جاتے ہیں اور پودا مرجاتا ہے۔ اس بیماری کے دوران دھان کے پودے کا تنا نیچے کی گانٹھوں سے گل جاتا ہے جبکہ متاثرہ حصے سے اوپر کی گانٹھ سے جڑیں نکل آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے پودا لمبا ہو کر مر جاتا ہے اور اس پر سفید یا گلابی مائل سفید پھپھوندی کی روئیں تہہ در تہہ پیدا ہو جاتے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ بیماری والے کھیت میں موجود دھان کے مڈھ تلف کر دیں۔ اس کے علاوہ کھیت میں پانی زیادہ دنوں تک ایک ہی سطح پر کھڑا نہ رکھیں۔بیماری سے متاثرہ کھیت کا پانی دوسرے کھیت میں نہ جانے دیں۔لاب کی منتقلی کے 50 تا 55 دن بعد کھیت میں مسلسل پانی کھڑا نہ رکھیں بلکہ فصل کو وتروں کا پانی لگائیں۔

 

مزید خبریں