یکساں، صارف دوست اور موثر قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری میں بار کے ساتھ بامعنی مشاورت مرکزی حیثیت رکھے گی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

یکساں، صارف دوست اور موثر قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری میں بار کے ساتھ بامعنی مشاورت مرکزی حیثیت رکھے گی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی فائلنگ نظام کے اہم فریق اور بنیادی صارف کی حیثیت سے بار کو قومی سطح کے یکساں ای فائلنگ نظام کی تیاری کے ابتدائی مرحلے ہی میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وکلاء کے عملی تجربات اور ضروریات کو فریم ورک میں مدنظر رکھا جاسکے۔چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت بدھ کو سپریم کورٹ میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ملک بھر کی بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی، ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین منیر احمد ملک، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید، ایڈووکیٹس آن ریکارڈ سید رفاقت حسین شاہ اور آفتاب عالم یاسر، پنجاب بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی چوہدری ارشد علی ہنجرا، سندھ بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی ایاز حسین تونیو، خیبر پختونخوا بار کونسل کے رکن بابر خان یوسفزئی اور بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جدین دشتی سمیت سپریم کورٹ اور قانون و انصاف کمیشن پاکستان کے سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں مجوزہ سٹینڈرڈائزڈ نیشنل ای فائلنگ سسٹم کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ نظام کا مقصد سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں الیکٹرانک فائلنگ کے لیے مشترکہ، منظم اور قواعد پر مبنی طریقہ کار وضع کرنا ہے۔شرکا کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ ای فائلنگ نظام کے تجربے کی بنیاد پر اس کے فوائد کو عدالتی نظام کے تمام درجات تک توسیع دی جائے گی جس سے ملک بھر میں یکساں معیارات، طریقہ کار میں ہم آہنگی اور مربوط ڈیجیٹل کیس فائلنگ کا نظام قائم ہوگا۔بار کے نمائندگان نے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ای فائلنگ کے نظام میں یکسانیت سے وکلاء اور سائلین کو مقدمات دائر کرنے، کیسز کی موثر نگرانی اور متحدہ الیکٹرانک کیس ریکارڈ تک رسائی میں سہولت ملے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ ٹیمپلیٹس میں ججز، عدالتی عملے، وکلاء اور سائلین کی عملی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بار کونسلز، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کے نمائندگان پر مشتمل کمیٹی سٹینڈرڈائزڈ نیشنل ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کرے گی۔متعلقہ بار کونسلز اپنے ارکان سے مشاورت کے بعد اپنی آراء آئندہ اجلاس میں پیش کریں گی جو 20 اگست 2026ء کو ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے بار کے نمائندگان کی تعمیری شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یکساں، صارف دوست اور موثر قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری میں بار کے ساتھ بامعنی مشاورت مرکزی حیثیت رکھے گی۔قومی ای فائلنگ نظام کی تجویز وسیع تر عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد عدالتی نظام کے مختلف درجات میں عدالتی کارروائیوں کو یکساں اور مربوط بنانا اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف تک رسائی کو آسان، موثر اور قابل پیش گوئی بنانا ہے۔