پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کااجلاس

پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان تعاون، مواد کے تبادلے اور پیشہ ورانہ روابط کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ یہ اتفاق رائے اسلام آباد میں 9 ویں پاکستان۔بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں ہوا۔

بدھ کو وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کا 9 واں اجلاس 11 اور 12 اگست 2026ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور جمہوریہ بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اپنے افتتاحی کلمات میں پاکستان اور بیلاروس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، خودمختار برابری اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی مضبوط سیاسی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے اور باہمی مفاد کے نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کا اہم ستون ہے جو مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنے، منڈیوں کو متنوع بنانے اور ایسے مواقع کی نشاندہی کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو دونوں ممالک کے اداروں اور عوام کے لیے عملی اور ٹھوس فوائد کا باعث بن سکیں۔بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے پاکستانی حکام کی جانب سے پرتپاک استقبال اور تعمیری مذاکرات کو سراہا۔ انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں مثبت پیش رفت اور دونوں ممالک کی معیشتوں میں باہمی تکمیل کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے بیلاروس کی آمادگی کا اعادہ کیا۔سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن محمد حمیر کریم کڈوائی نے اجلاس کو 8ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر عملدرآمد اور 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے تکنیکی اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا۔

دونوں جانب سے تجارت کے شعبے میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کو سراہا گیا جس کا مقصد تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنا، تجارتی معاملات کو حل کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مزید موثر بنانا ہے۔فریقین نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان اور یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ کی پیش رفت اور اس کی سفارشات کو بھی سراہا گیا جس میں دونوں ممالک کے وزرائے تجارت کی ہدایات کے مطابق مذاکرات کی جانب پیش رفت کی سفارش کی گئی ہے۔صنعتی تعاون کے شعبے میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی اشتراک کے فروغ کے لیے مسلسل رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

پاکستانی جانب سے بیلاروس میں پاکستانی افرادی قوت کی تعیناتی کے لیے ایک منظم اور باہمی طور پر متفقہ طریقہ کار وضع کرنے میں سہولت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس اقدام سے نہ صرف بیلاروس کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار اور معاش کے بامعنی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔زراعت کے شعبے کو دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم امکانات کا حامل قرار دیا گیا۔ پاکستان اور بیلاروس نے سمندری خوراک، پھلوں، سبزیوں، بیجوں اور ڈیری مصنوعات کے شعبوں میں آن لائن کاروباری روابط (بی ٹو بی) کے اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔ زرعی نمائشوں، فوڈ فیسٹیولز اور باہمی کاروباری وفود میں شرکت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ شراکت داری، سرمایہ کاری اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان نے بیلاروس کی سٹیٹ کمیٹی فار سٹینڈرڈائزیشن اور پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے درمیان موجود مفاہمتی یادداشت کے تحت میوچل ریکگنیشن ایگریمنٹ پر کام شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔

مجوزہ انتظام کے تحت معیارات، ٹیسٹنگ اور مطابقت کے جائزے کے طریقہ کار کو باہمی طور پر تسلیم کرنے میں مدد ملے گی جس سے دوطرفہ تجارت کو سہولت حاصل ہوگی۔بیلاروس نے پانی کے تحفظ، ٹھوس فضلے کے انتظام اور گندے پانی کی صفائی سمیت جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ دونوں شریک چیئرمینوں نے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کے متفقہ منٹس/پروٹوکول پر دستخط کیے جس سے دو روزہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے فیصلوں اور باہمی مفاہمت کو باضابطہ شکل دی گئی۔اس موقع پر جمہوریہ بیلاروس کی نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کمپنی اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

اس مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون، مواد کے تبادلے اور پیشہ ورانہ روابط کے فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا جائے گا۔مشترکہ وزارتی کمیشن کے اختتام پر دونوں شریک چیئرمینوں نے پاکستان اور بیلاروس کے وفود کی تعمیری شرکت اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس نے دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، زیر التواء معاملات کو حل کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے عملی راستوں کی نشاندہی کے لیے اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔

دونوں جانب سے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے، کاروباری روابط کے فروغ، رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔

مزید خبریں