پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے تسلسل کے دوران اسلام آباد تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
علاقائی کشیدگی کے تسلسل کے دوران اسلام آباد تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اگست (اے پی پی):پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے تسلسل کے دوران اسلام آباد تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بدھ کو یہاں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان متعلقہ فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے امن اور استحکام کی راہ ہموار کی ہے، اگرچہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ بھی ہوا ہو تاہم جب بھی ’’مذاکرات کی معقولیت‘‘ کشیدگی میں اضافے کی منطق پر غالب آئے گی، فریقین دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان براہ راست اور بالواسطہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے امن کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے اثرات کو کم کرنے اور زیر التواء معاملات پر تعمیری مذاکرات کو آسان بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا کہ 11 اگست کو نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، محمد اسحاق ڈار نے مجوزہ دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ 7 اگست کو ہونے والی مکہ سربراہی کانفرنس بھی بریفنگ کا مرکزی موضوع رہی۔ اس سربراہی اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت نے شرکت کی۔ طاہر حسین اندرابی نے مکہ المکرمہ سربراہی اجلاس کے دوران طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور تزویراتی روابط کا ایک فطری قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے ذریعے تینوں ممالک کو خطرات اور سلامتی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ کوششیں کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا مکہ معاہدے پر دستخط سے قبل پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا، ترجمان نے اس تاثر کو واضح طور پر مسترد کردیا کہ یہ معاہدہ داخلی طریقہ کار کی پیروی کیے بغیر طے کیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور خود معاہدے کے ایک دستخط کنندہ ہیں جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار جو ایوان بالا کے معزز رکن ہیں، بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عوام کی خواہشات کے مطابق دستخط کیے گئے اور وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس معاملے پر مکمل طور پر متفق تھے۔ ترجمان نے کہا کہ کسی بھی متعلقہ فریق کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ کہ تمام داخلی طریقہ کار طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے 10 اگست کو قوم کے نام اپنے پیغام میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور معاہدے کو عملی شکل دینے میں پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت کے کردار کو سراہا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی روابط میں مزید تیزی پیدا کی ہے۔
10 اگست کو محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ گفتگو کی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، مکہ معاہدے اور امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے لیے تہران کا دورہ کررہے ہیں جہاں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی امور اور علاقائی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔ ترجمان نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت کو دستیاب معلومات کے مطابق تین پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے سعودی حکام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔ترجمان نے کہا کہ جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں واپس لانے اور وطن منتقل کرنے کے ساتھ زخمی کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کا دستخط کنندہ ہے۔ پاکستان عالمی سپلائی چینز اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے اتحاد کے اعلامیے پر عمل درآمد میں سعودی عرب اور دیگر اتحادی شراکت داروں کی مدد کے لیے تیار ہے۔ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بیانات اور الزامات کو پاکستان نے واضح طور پر مسترد کردیا۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے جبکہ نئی دہلی کو بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریکارڈ پر توجہ دینی چاہیے۔
معیشت کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اپنے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تین جائزے کامیابی سے مکمل کیے ہیں جس کا مقصد اصلاحات اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ ترجمان نے غیر جنگی تجارتی بحری جہاز پر حملے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور جہاز رانی کی آزادی، بحری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے ریاض میں پاکستانی مشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ واقعے کی مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے سعودی حکام اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان جاں بحق پاکستانیوں کی میتوں کی واپسی اور وطن منتقلی اور زخمی پاکستانی شہری کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ بھی رابطہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور بحری سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور عالمی سپلائی چینز اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے ریاض کی جانب سے اعلان کردہ بحری اتحاد کو فعال بنانے میں سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کی مدد کے لیے تیار ہے۔








