فارماسیوٹیکل صنعت کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کے قومی ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے، وفاقی ویز پروفیسر احسن اقبال کا گول میز کانفرنس سے خطاب
فارماسیوٹیکل صنعت کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کے قومی ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے، وفاقی ویز پروفیسر احسن اقبال کا گول میز کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے فارماسیوٹیکل شعبے کو مسابقتی، جدت پر مبنی اور عالمی سطح پر برآمدات پر مرکوز صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے ترجیحات، اصلاحات اور حکومتی معاونت کی ضروریات کی نشاندہی کے لیے ایک ماہ کی صنعت گیر مشاورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فارماسیوٹیکل صنعت کو 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کے قومی ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے فارماسیوٹیکل صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ گول میز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔
وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ شعبے کو مالی سال 2025 میں 457 ملین ڈالر کی ریکارڈ برآمدات، جو 20 سال کی بلند ترین سطح ہے، کی بنیاد پر مزید ترقی کرنی چاہیے اور 2035 تک 100 ارب ڈالر سے زائد برآمدات کے قومی ہدف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرنا چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ مجوزہ مشاورت میں صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی اداروں کو شامل کیا جانا چاہیے اور اس کے نتیجے میں 2030 اور اس کے بعد کے عرصے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی واضح روڈ میپ تیار کیا جانا چاہیے، جس میں ضابطہ جاتی، انتظامی، مالیاتی، پیداواری اور مارکیٹ تک رسائی کی رکاوٹوں اور حکومت کی جانب سے درکار معاونت کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اگلے 10 سال میں پاکستان کو دنیا کا فارماسیوٹیکل مرکز بنا سکتے ہیں؟۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملکی اور بین الاقوامی ویلیو چینز میں موجود خلا کو پُر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈیوں میں’’میڈ اِن پاکستان‘‘ معیار اور اعتماد کی علامت بن سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کردار نجی شعبے کو سہولت فراہم کرنا، سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنا اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنانا ہے تاکہ صنعتیں ترقی، جدت اور عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔فارماسیوٹیکل شعبے نے مالی سال 2025 میں 523 ارب روپے کی آمدن حاصل کی جو 19.4 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتی ہے جبکہ اس وقت صنعت میں 662 مینوفیکچررز موجود ہیں۔شعبے کے روڈ میپ کے تحت برآمدات کو 457 ملین ڈالر سے بڑھا کر 2 ارب ڈالر تک لے جانے، اس کے بعد تین سال کے اندر فارما ایکس کے ذریعے 3 ارب ڈالر اور آٹھ سال کے اندر 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ برآمدی حکمت عملی میں بین الاقوامی ضابطہ جاتی تقاضوں اور معیار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے لیول 2 کے 52 ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہے جبکہ اپریل 2027 تک ڈبلیو ایچ او لیول 3 کا درجہ حاصل کرنے کا ہدف ہے جس سے ممکنہ طور پر 150 سے زائد منڈیوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔انہوں نے جدید اور ترقی یافتہ بین الاقوامی منڈیوں میں مزید پاکستانی کمپنیوں اور مصنوعات کے داخلے کے لیے ضابطہ جاتی خلا کی نشاندہی کرنے اور برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے پر زور دیا۔احسن اقبال نے درآمدات پر انحصار کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ تقریباً 85 فیصد ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس (اے پی آئیز) درآمد کیے جاتے ہیں جن میں سے تقریباً 85 سے 90 فیصد چین سے درآمد ہوتے ہیں۔
انہوں نے ملکی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی اور زیادہ قدر والی مینوفیکچرنگ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹیوں، فارمیسی کے شعبہ جات، تحقیقی اداروں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان مضبوط روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لیبارٹریوں اور انسانی وسائل کی ترقی میں پاکستان کی سرمایہ کاری کو تجارتی اعتبار سے اہم تحقیق اور جدت میں تبدیل ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے ایسی ضابطہ جاتی اصلاحات پر بھی زور دیا جو تعمیل اور معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ صنعت کی ترقی میں سہولت فراہم کریں، اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ صنعت کی توسیع میں رکاوٹ بننے والی انتظامی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں۔
انہوں نے کہا کہ صنعت واضح ترجیحات، قابل پیمائش برآمدی اہداف، رکاوٹوں کی نشاندہی اور قابل عمل سفارشات کے ساتھ جواب دے جبکہ انہوں نے عالمی منڈیوں میں شعبے کی توسیع کے لیے ’’کلین رن وے‘‘ فراہم کرنے کے حوالے سے حکومت کی مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔گول میز اجلاس پلاننگ کمیشن کی جانب سے پاکستان کے اعلیٰ قدر والے برآمدی شعبوں اور کلسٹرز کے فروغ کے لیے منعقد کی جانے والی مشاورتی نشستوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔







