قائداعظم کا وژن مضبوط اور پُرعزم پاکستان کی رہنمائی جاری رکھے ہوئے ہے، بلال شیخ

برطانوی پاکستانی کاروباری شخصیت اور ماہر تعلیم بلال شیخ نے پاکستان کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم کے وژن، آئینی جدوجہد اور قیادت نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن فراہم کیا جو اب تقریباً 25 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک مضبوط اور پُرعزم قوم بن چکا ہے۔

اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):برطانوی پاکستانی کاروباری شخصیت اور ماہر تعلیم بلال شیخ نے پاکستان کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قائداعظم کے وژن، آئینی جدوجہد اور قیادت نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن فراہم کیا جو اب تقریباً 25 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک مضبوط اور پُرعزم قوم بن چکا ہے۔وہ لندن کے وسطی علاقے وائٹ ہال پلیس میں واقع ممتاز نیشنل لبرل کلب میں مونٹ روز فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’قائداعظم محمد علی جناح: وقت سے ماورا میراث‘‘ کے عنوان سے منعقدہ آرٹ نمائش سے خطاب کر رہے تھے۔

نمائش کا انعقاد پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر کیا گیا جس کا مقصد بانیٔ پاکستان کی دیرپا میراث کو اجاگر کرنا تھا۔تقریب میں برطانیہ میں پاکستان کے نو تعینات ہائی کمشنر ٹیپو عثمان، مصورہ عامرہ راشد، برطانوی پاکستانی برادری کی ممتاز شخصیات، ماہرین تعلیم، کاروباری افراد اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے کہا کہ قائداعظم قانون کی حکمرانی، مدلل گفتگو، مکالمے اور سیاسی مذاکرات پر پختہ یقین رکھتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی میراث صرف اس تاریخی جدوجہد کو یاد کرنے تک محدود نہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا بلکہ اس جدوجہد کی رہنمائی کرنے والے اصولوں اور اقدار کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے بھی متعلق ہے۔

ہائی کمشنر نے مونٹ روز فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو بلال شیخ کی جانب سے نمائش کے انعقاد اور قائداعظم کی تصویر تیار کروانے کو سراہا جو مستقل طور پر نیشنل لبرل کلب میں نصب کر دی گئی ہے۔لندن میں مونٹ روز کالج کے بانی بلال شیخ نے کہا کہ پاکستان کا قیام قائداعظم کی غیر معمولی آئینی جدوجہد، سیاسی عزم اور اس مستقبل کے حصول کے لیے ان کی وابستگی کا نتیجہ تھا جس میں برطانوی ہندوستان کے مسلمان اپنے سیاسی، اقتصادی اور سماجی مستقبل کا خود تعین کر سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے 79 سال بعد بھی قائداعظم کا پیغام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان عالمی سطح پر زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

بلال شیخ نے کہاکہ حالیہ عرصے میں عالمی امن و ہم آہنگی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کا کردار اس تعلیم سے متاثر ہے جو قائداعظم نے ہمیں دی۔گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے بلال شیخ نے کہا کہ کئی گنا بڑے حریف کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی نے اس طاقت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جس کا تصور بانیٔ پاکستان نے پیش کیا تھا۔بلال شیخ نے کہاکہ قائداعظم نے محض ایک خطہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کی۔ انہوں نے لاکھوں لوگوں کے سیاسی حقوق، وقار اور مستقبل کے لیے جدوجہد کی۔ آج تقریباً 25 کروڑ آبادی پر مشتمل پاکستان اس لیے موجود ہے کہ قائداعظم میں اس سیاسی مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی ہمت اور دور اندیشی تھی جسے کبھی بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔

پاکستانی تارکین وطن کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے بلال شیخ نے کہا کہ برطانوی پاکستانی جدید برطانیہ کی کامیابی کی داستان کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں اور تعلیم، طب، قانون، کاروبار، عوامی خدمت، ٹیکنالوجی اور متعدد دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی کامیابی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی میں حصہ ڈالنا ان ذمہ داری، تعلیم اور ترقی کی اقدار سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جنہیں قائداعظم نے فروغ دیا۔

برطانوی پاکستانی ماہر تعلیم اور کاروباری شخصیت اور مشرقی لندن میں قائم مونٹ روز کالج کے چیف ایگزیکٹو بلال شیخ کئی برس سے برطانیہ میں قائداعظم کی تاریخی اور سیاسی میراث کو زیادہ پذیرائی دلانے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔2022 میں انہوں نے لندن کے نیشنل لبرل کلب کے لیے قائداعظم کی ایک تصویر تیار کروائی تھی، جہاں بانیٔ پاکستان ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل رکن رہ چکے تھے۔بلال شیخ نے پارلیمنٹ اسکوائر میں قائداعظم کا مجسمہ نصب کرنے کی بھی حمایت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ قائداعظم کے برطانیہ کے ساتھ تاریخی روابط اور ان کی سیاسی میراث زیادہ عوامی پذیرائی کے مستحق ہیں۔

 

مزید خبریں