افغانستان میں سال 2021 سے 2.6 ملین سے زیادہ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں، یونیسیف

افغانستان میں 2.6 ملین سے زیادہ لڑکیوں کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پانچ سالوں میں ثانوی تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) نے کہا ہے کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم بند ہے۔

نیویارک / اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):افغانستان میں 2.6 ملین سے زیادہ لڑکیوں کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پانچ سالوں میں ثانوی تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ (یونیسیف) نے کہا ہے کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کے لیے ثانوی اور اعلیٰ تعلیم بند ہے۔ یونیسیف کی جمعہ کو یہاں موصولہ پریس ریلیز کے مطابق ستمبر 2021 سے لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے رسمی تعلیم اور دسمبر 2022 سے یونیورسٹیوں میں خواتین کو تعلیم سے روک دیا گیا ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا کہ کسی ملک کی تاریخ میں پانچ سال مختصر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ لڑکی کی زندگی کا ایک اہم دور ہوتا ہے۔

ایک کلاس روم سیکھنے سے کہیں زیادہ مواقع پیش کرتا ہے، جو ایک نوجوان کو آواز دیتا ہے اور اس کو اپنی مکمل صلاحیت سے استفادہ کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ اسی طرح کلاس روم بچوں کی مزدوری، کم عمری کی شادی، تشدد اور بدسلوکی کے خلاف بھی ایک ڈھال پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب لڑکیوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، سکول بند ہوئے تو یہ تحفظ بھی غائب ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لڑکیاں سکول سے باہر ہیں ان کو تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات بشمول چائلڈ لیبر، بدسلوکی، کم عمری کی شادی اور صنفی بنیاد پر تشدد کا سامنا ہے۔ یہ خطرات گھریلو غربت اور نقل مکانی کے ساتھ بڑھتے ہیں اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق 2023 سے اب تک 27 لاکھ سے زیادہ لوگ ایران اور پاکستان سے واپس آئے ہیں جن میں سے 60 فیصد بچے اور نوجوان شامل ہیں۔ اس کے براہ راست اثرات متاثرہ لڑکیوں سے بھی زیادہ ہیں۔ اپریل 2026 میں شائع ہونے والے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی لیبر فورس کی شرکت پر عدم عمل کی سے پتا چلا ہے کہ ملک میں 2030 تک 20 ہزار خواتین اساتذہ اور 5,400 خواتین ہیلتھ ورکرز کو کھونے کا خطرہ ہے جبکہ بنیادی تعلیم میں خواتین اساتذہ کی تعداد پہلے ہی سے 9 فیصد کم ہو چکی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں 2023 تا 2025 کے درمیان سول سروس میں خواتین کی نمائندگی 21 فیصد سے کم ہو کر 17.7 فیصد رہ گئی ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمت پر پابندیوں سے افغانستان کو اقتصادی پیداوار میں سالانہ 84 ملین ڈالر کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہر سال نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ پابندیاں برقرار ہیں۔ اس کے نتائج سے آئندہ نسل بھی متاثر ہو گی۔ یونیسیف نے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر ماؤں کا تناسب بھی بڑھا ہے اور ان کے بچوں میں پیدائشی وزن، کم ویکسینیشن، اور اسٹنٹنگ کے خطرات بڑھتے ہیں جس سے صحت کے نظام پر پہلے سے موجود دباؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کے باوجود یونیسیف افغانستان میں سیکھنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2025 میں سرکاری سکولوں میں 3.7 ملین سے زیادہ بچوں نے ہنگامی تعلیم حاصل کی، 4 لاکھ 42 ہزار بچوں نے کمیونٹی پر مبنی سیکھنے کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

جن میں سے 66 فیصد لڑکیاں شامل تھیں۔ اسی طرح 232 سکولوں کی تعمیر یا بحالی بھی کی گئی۔ یونیسیف نے طالبان رجیم سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم سے پابندیاں ہٹائی جائیں اور تمام لڑکیوں اور خواتین کو فوری طور پر سکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ رسل نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی معطلی کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مطالبے کی بازگشت بھی دنیا بھر میں سنی جا رہی ہے اور وہ یونیسیف اور ہمارے پارٹنرز سکولوں کو دوبارہ کھولنے کی حمایت کے لیے تیار ہیں تاکہ ہر لڑکی بحفاظت واپس تعلیمی ادارے میں آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب اس کی آدھی نوجوان آبادی کو تعلیم روک دیا جائے۔ افغانستان کا مستقبل کلاس روم سے باہر ہے، اور ہر لڑکی کو کلاس روم میں واپس جانے کا انتظار ہے۔