سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد میں متحد ہونا ہوگا، مضبوط معیشت ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے، قیصر احمد شیخ
سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد میں متحد ہونا ہوگا، مضبوط معیشت ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے، قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
چنیوٹ ۔14اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنانے کے لیے سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا، مضبوط معیشت، شفاف طرزِ حکمرانی، مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمت کو ریاستی پالیسی کا بنیادی محور بنانا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور عوامی خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔
جشنِ آزادی کے موقع پر چنیوٹ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد کے بنیادی معاملات پر مل بیٹھ کر ’’چارٹر آف پاکستان‘‘ پر اتفاق کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑا جاسکے جو معاشی طور پر خودکفیل، سیاسی طور پر مستحکم اور عوامی فلاح کے اعتبار سے مضبوط ہو۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ 14 اگست محض آزادی کی خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ قومی ذمہ داریوں، قیامِ پاکستان کے مقاصد اور ملک کے مستقبل پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل، زرعی صلاحیت، وسیع انسانی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ہے تاہم ان صلاحیتوں کو قومی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سیاسی کشمکش، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے کے فقدان نے ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی طرف دیکھا جائے۔
سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے اختلاف ضرور کریں تاہم ملکی مفاد، قومی سلامتی، معیشت، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی فلاح جیسے بنیادی معاملات پر مشترکہ قومی سوچ اپنائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مضبوط معیشت پاکستان کے مستقبل کی بنیادی ضرورت ہے۔ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور عام آدمی کی مشکلات کا مستقل حل ایسے معاشی نظام میں ہے جہاں صنعت کا پہیہ تیزی سے چلے، نئی سرمایہ کاری آئے، برآمدات میں اضافہ ہو، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ وہ خود کئی دہائیوں سے کاروباری شعبے سے وابستہ ہیں اور اس حیثیت سے صنعتکاروں، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کا براہِ راست ادراک رکھتے ہیں۔
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ کاروبار کا بنیادی اصول ہے کہ جو شخص آپ سے رابطہ کرے، اس کی بات سنی جائے، اسے عزت دی جائے اور اس کے سوال یا مسئلے کا جواب دیا جائے۔ سرکاری نظام میں بھی یہی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری افسران عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آئیں، شہریوں کے فون سنیں، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور انہیں معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا اصل مطلب شہری کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ اگر کسی شخص کو ایک معمولی مسئلے کے حل کے لیے کئی دن یا ہفتے سرکاری دفاتر میں دھکے کھانے پڑیں تو اس سے نہ صرف شہری کا وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ افسران کو اپنی ذمہ داری کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے اور ہر سطح پر شفافیت، دیانت داری اور جواب دہی کو یقینی بنانا چاہیے۔
پنجاب حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز عوامی خدمت کے لیے دن رات محنت کررہی ہیں۔ عوامی فلاح کے اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے سرکاری مشینری کو بھی مکمل ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر وزیراعلیٰ کے نام پر غلط بیانی یا عوام کو گمراہ کرنے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں، جن کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ سرکاری افسران قانون اور میرٹ کے مطابق فیصلے کریں اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غلط تاثر پیدا نہ ہونے دیں۔ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے حوالے سے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل گھڑی میں وطن کا دفاع کیا ہے اور ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی دفاع صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ معاشی خودمختاری بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے۔
مضبوط معیشت ہی ملک کو اندرونی و بیرونی چیلنجز کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعاون خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ مفادات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط کو بھی مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے ممالک ایک دوسرے کی معاشی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دفاعی میدان میں پاکستان کی کامیابیوں کے ساتھ معاشی میدان میں بھی غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صرف عارضی ریلیف سے عوام کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوسکتے۔ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے صنعتی پیداوار میں اضافے، نئی صنعتوں کے قیام، موجودہ صنعتوں کو سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کو ہنر و روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ ٹیکس نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے کاروبار کررہے ہیں اور ہمیشہ شفاف انداز میں ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں۔
کاروباری طبقہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے اعتماد ہو کہ ادا کیا جانے والا ٹیکس عوامی فلاح، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کے منصوبوں پر شفاف انداز میں خرچ ہوگا۔ قیصر احمد شیخ نے قومی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکنا، غیر ضروری اخراجات میں کمی، انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا اور اداروں میں میرٹ و جواب دہی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید دور میں شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول کے لیے غیر ضروری مراحل سے گزارنے کے بجائے تیز، آسان اور شفاف نظام فراہم کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹل سہولیات، بہتر نگرانی، افسران کی جواب دہی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے سے سرکاری نظام کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ چنیوٹ کی ترقی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ ضلع میں رابطہ سڑکوں، مواصلاتی نظام، صنعتی انفراسٹرکچر اور کاروباری سہولیات کو بہتر بناکر اسے سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
چنیوٹ اپنی جغرافیائی پوزیشن، کاروباری صلاحیت اور باصلاحیت افرادی قوت کے باعث صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی بھرپور استعداد رکھتا ہے۔ انفراسٹرکچر میں بہتری اور سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ضلع کی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں کو بھی صنعتی، تجارتی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔ اس سے علاقائی عدم توازن کم ہوگا اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یومِ آزادی کا پیغام اتحاد، قربانی، ذمہ داری اور قومی عزم سے جڑا ہوا ہے۔ آج کی نسل پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادی کو صرف ایک تاریخی کامیابی سمجھنے کے بجائے پاکستان کو معاشی، انتظامی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ عوام، کاروباری برادری، سیاسی قیادت، سرکاری افسران اور نوجوان اگر اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کو ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کے نتیجے میں ملک میں معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا اور پاکستان ایک مضبوط، مستحکم، خودکفیل اور خوشحال مستقبل کی جانب تیزی سے آگے بڑھے گا۔







