موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بھر کے 56 کروڑ بچوں کو سالانہ ایک اضافی ماہ خطرناک گرمی کا سامنا ہے ، تحقیق

نسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں تقریباً 56 کروڑ بچوں کو ہر سال کم از کم ایک اضافی ماہ خطرناک گرمی کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ کم عمر نسلیں اس کے اثرات سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔

ہیلسنکی۔28اگست (اے پی پی):انسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں تقریباً 56 کروڑ بچوں کو ہر سال کم از کم ایک اضافی ماہ خطرناک گرمی کا سامنا کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ کم عمر نسلیں اس کے اثرات سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔

شنہوا کے مطابق یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ9سال یا اس سے کم عمر کے تقریباً 43 فیصد بچےموسمیاتی تبدیلی کے باعث ہر سال کم از کم 30 اضافی دن شدید گرمی کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق زیادہ نمی کے ساتھ گرمی خاص طور پر خطرناک ہوتی ہے کیونکہ نمی جسم کو پسینے کے ذریعے ٹھنڈا ہونے کی صلاحیت کم کردیتی ہے۔ بچے اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کے جسم بالغوں کے مقابلے میں تیزی سے گرم ہوتے ہیں اور درجہ حرارت کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ شدید گرمی سے پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ طویل عرصے تک گرمی کی زد میں رہنے سے بچوں کی تعلیم اور ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوسکتی ہے۔تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی افریقہ میں خطرناک گرمی سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد خاص طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے فوسل فیول کے اخراج میں نمایاں کمی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت میں اضافے پر زور دیا ہے۔