ملک میں 5ہزار آپریشنل کانیں سالانہ 68.5 ملین میٹرک ٹن پیداوار دے رہی ہیں ،رپورٹ
ملک میں 5ہزار آپریشنل کانیں سالانہ 68.5 ملین میٹرک ٹن پیداوار دے رہی ہیں ،رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):ثاقب الرحمن مغل نے کہا ہے کہ پاکستان میں 92 مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں 52 معدنیات کی کان کنی کاروباری بنیادوں پر کی جا رہی ہے، ملک میں تقریباً 5ہزار آپریشنل کانیں سالانہ 68.5 ملین میٹرک ٹن پیداوار دے رہی ہیں ۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ)کے سی پیک سینٹر آف ایکس لینس کے تجزبہ کار اور انرجی پالیسی و منیجمنٹ کے ماہر ثاقب الرحمن مغل نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (بی آر آئی)کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے منصوبہ میں معدنیات کے شعبہ کی ترقی اور پیداوار میں اضافہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جار ہی ہے ۔
بی آر آئی کی 126.4 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری میں کان کن کے شعبہ میں 21.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ بی آر آئی کی مجموعی سرمایہ کاری میں کان کنی کے شعبہ کی سرمایہ کاری کا تناسب 17 فیصد سے زیادہ ہے ،سی پیک کے اگلے مرحلہ میں کان کنی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبہ میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا 86.6 فیصد پراسیسنگ کے منصوبوں سے وابستہ ہے اور تقریباً 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پراسیسنگ کے منصوبوں پر کی جا رہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 92 مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں جن میں 52 معدنیات کی کان کنی کاروباری بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 5ہزار آپریشنل کانیں ہیں جو سالانہ 68.5 ملین میٹرک ٹن معدنیات کی پیداوار دے رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے قومی شعبہ کی بھرپور استعداد کے باوجود مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں شعبہ کا حصہ 2 تا 3 فیصد ہے اور معدنیات کی زیادہ تر برآمدات خام مال یا نیم تیار شدہ مصنوعات کی صورت میں کی جاتی ہیں۔ معدنیات کے شعبہ کی قومی برآمدات میں تانبا کی برآمدات سب سے نمایاں ہیں اور 2024 کے دوران 842 ملین ڈالر مالیت کا تانبا برآمد کیا گیا تھا ۔ اسی طرح نمک ، سیمنٹ اور دیگر برآمدات سے 500 ملین ڈالر زرمبادلہ کما یا گیا ۔ مزید برآں کان کنی کے قومی شعبہ کی دیگر برآمدات میں کرومائیٹ ، لیڈ،زنک ، ماربل ، جپسم اور جیم سٹون وغیرہ کی برآمدات شامل ہیں ۔
ریکوڈیک منصوبہ کے تحت کان کنی کی 37 سالہ مدت کے دوران 13.1 ملین ٹن تانبا جبکہ 17.9ملین اونس سونے کی پیداوار متوقع ہے۔ اسی طرح سینڈک سے بھی تانبا کی کان کنی کی جائے گی ۔ ثاقب الرحمن مغل نے اپنی رپورٹ میں تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے دوسر مرحلہ میں کان کنی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کان کنی کی پیداوار اور خام مال کی بجائے مکمل تیار مصنوعات کی تیاری و برآمد کیلئے کان کنی کے شعبہ میں پراسیسنگ کی سہولیات پر کی جانے والی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پالیسی رکاوٹوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ میں ٹیکس مراعات ، لیزنگ کی شفاف پالیسیز ، وفاق اور صوبوں کی ذمہ داریوں کے واضح تعین وغیرہ کے اقدامات سے سرمایہ کاری کو فروغ دے کر شعبہ کی استعداد سے حقیقی استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔








