یونٹی فوڈز میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں، ایس ای سی پی کی تحقیقات پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے مالی معاملات کی چھان بین اور تحقیقات میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوا دیا گیا۔

اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کے مالی معاملات کی چھان بین اور تحقیقات میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوا دیا گیا۔ ایس ای سی پی کی جانب سے پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق کمیشن کے ریفرنس پر ایف آئی اے نے کمپنی کے سابق انتظامی عہدیداروں اور دیگر افراد کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کمپنی اور شیئر ہولڈرز کے فنڈز کے غلط استعمال اور اکائونٹس میں مبینہ ردوبدل کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایس ای سی پی کے ریفرنس کے مطابق یونٹی فوڈز نے 2019ء میں کاروباری توسیع، پورٹ قاسم پر ریفائنری میں اضافہ اور آئل ٹرمینل کے قیام سمیت مختلف مقاصد کے لیے رائٹس ایشو کے ذریعے شیئر ہولڈرز سے 3.75 ارب روپے حاصل کیے تھے۔ تحقیقات کے مطابق مارکیٹ سے حاصل کیے گئے اس سرمائے میں سے تقریباً 2.87 ارب روپے کے منظور شدہ کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کے شواہد فراہم نہیں کیے جا سکے۔ایس ای سی پی کی تحقیقات میں کمپنی کے فنڈز سے سابق چیف ایگزیکٹو کی والدہ کو قرضوں کی وصولی اور واپسی کی مد میں مبینہ طور پر 5.318 ارب روپے کی ادائیگی بھی سامنے آئی جس کے لیے مطلوبہ بینکنگ دستاویزات اور بورڈ کی منظوری پیش نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ ایک ذیلی کمپنی کے ذریعے دو غیر ظاہر شدہ فریقوں کو مبینہ طور پر 2.6 ارب روپے کی فراہمی سمیت دیگر متعلقہ پارٹی ٹرانزیکشنز بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔کمپنی کی مالیاتی رپورٹنگ میں بھی سنگین تضادات کی نشاندہی کی گئی۔

ایس ای سی پی کی جانب سے فراہم کردہ مواد کے مطابق کمپنی کے شائع شدہ مالی حسابات اور اندرونی ایس اے پی ریکارڈ میں تقریباً 44.7 ارب روپے کا مبینہ فرق سامنے آیا۔ اسی طرح کمپنی کے داخلی اکائونٹنگ سافٹ وئیر میں درج انوینٹری اور اصل دستیاب سٹاک میں تقریباً 5.2 ارب روپے کا فرق پایا گیا جبکہ تقریباً 5 ارب روپے کی پرانی وصولیوں کے مقابل درج شدہ سامان کی ترسیل کے بھی مناسب شواہد موجود نہیں۔ ایس ای سی پی نے کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کارروائی شروع کرنے کے ساتھ ایسے معاملات جن میں ممکنہ فوجداری جرائم کا پہلو موجود تھا، مزید تحقیقات کے لیے ایس ای سی پی ایکٹ کے سیکشن 41 بی کے تحت ایف آئی اے کو بھجوا دیئے۔ایس ای سی پی کے ریفرنس اور دستیاب مواد کی بنیاد پر ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے 29 اگست 2026ء کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 406، 420، 477-A، 109 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی۔

ایف آئی اے اب فنڈز کی منتقلی، اصل مستفید افراد اور متعلقہ ڈائریکٹرز و افسران کے کردار کی تحقیقات کر رہا ہے۔ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ شیئر ہولڈرز کے حقوق کا تحفظ کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے فنڈز کا استعمال انہی مقاصد کے لیے ہونا چاہیے جن کے لیے وہ حاصل کیے گئے ہوں جبکہ شیئر ہولڈرز کو کمپنی کی درست اور شفاف مالی معلومات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی لسٹڈ کمپنیوں کی نگرانی مزید موثر بنائے گا اور جہاں بھی شیئر ہولڈرز کے مفادات خطرے میں ہوں گے، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ تمام الزامات فی الحال ایف آئی اے کی تحقیقات اور قانون کے مطابق حتمی تعین سے مشروط ہیں۔