مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی، برطانوی وزیراعظم کا اعلان

مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی، برطانوی وزیراعظم کا اعلان مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے، جرمن چانسلر لندن ۔ 7 دسمبر (اے پی پی) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اسرائیلی دارالحکومت کے طور …

مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی، برطانوی وزیراعظم کا اعلان
مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے، جرمن چانسلر

لندن ۔ 7 دسمبر (اے پی پی) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے پر اتفاق نہیں کرتی اور کہا کہ اس سے امن کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اس سے خطے میں امن کیلئے امکانات میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ برطانوی سفارتخانہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ہی رہے گا اور ان کی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کا مشترکہ دارالحکومت رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم مشرقی بیت المقدس کو مقبوضہ فلسطینی علاقے کا حصہ سمجھتے ہیں۔دریں اثناءجرمنی چانسلر انجیلا مرکل کے ترجمان نے کہا ہے کہ جرمن چانسلر مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتیں۔اپنے ایک بیان میں ترجمان سٹیفن سیبرٹ نے کہا کہ جرمن حکومت اس صورتحال کی حمایت نہیں کرتی کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت کا تعین دو ریاستی حل کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔

Leave a Reply