ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے 332 سے زائد اساتذہ کے لئے مصنوعی ذہانت پر تربیتی پروگرام کا انعقاد
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے 332 سے زائد اساتذہ کے لئے مصنوعی ذہانت پر تربیتی پروگرام کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے سرکاری شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے لئے "اساتذہ کے لئے مصنوعی ذہانت کی آگاہی: مصنوعی ذہانت کے لئے تیار اداروں کی تعمیر” کے عنوان سے چار روزہ اساتذہ کی تربیت کا پروگرام مکمل کر لیا ہے۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے سرکاری تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرنے والے 32 اساتذہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سمارٹ کلاس روم میں تربیت میں شرکت کی جبکہ 300 سے زائد اساتذہ نے یونیورسٹیوں میں قائم سمارٹ کلاس رومز اور ویڈیو کانفرنس رومز کے ذریعے اس پروگرام میں حصہ لیا۔
سمارٹ کلاس رومز کے ذریعے منعقد کردہ یہ پروگرام اساتذہ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ تدریس، تعلم، تحقیق، امتحانی جائزوں اور دیگر تعلیمی امور میں مصنوعی ذہانت کو سمجھ سکیں، اس کا تنقیدی جائزہ لے سکیں اور اسے استعمال کر سکیں۔پیشہ وارانہ ترقی کے اس جامع اقدام میں نظریاتی سمجھ بوجھ، عملی مشق، تنقیدی غور و فکر اور مختلف تعلیمی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو شامل کیا گیا تھا جس سے شرکاء کو بنیادی معلومات اور عملی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملی۔
اس پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سمارٹ کلاس روم نیٹ ورک کے ذریعے انعقاد تھی کیونکہ اساتذہ کی اکثریت نے اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے آن لائن اس تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔ اس نظام کی بدولت شرکاء براہِ راست نشستوں میں شامل ہو سکے اور تربیت دینے والے ماہرین سے فوری رابطہ قائم کر سکے جس سے فاصلوں کے باوجود یہ نشستیں باہمی بات چیت اور تبادلہ خیال کا بہترین ذریعہ بنیں۔نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
انہوں نے اعلیٰ تعلیم پر مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت علم کی تخلیق، تدریس، امتحانی جائزے، تحقیق اور عملی اطلاق کے طریقوں کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ وہ اساتذہ اور طلبہ کو مصنوعی ذہانت سے لیس تعلیمی ماحول کے لئے تیار کریں جبکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی کی پیشرفت تعلیمی معیار، اخلاقی اصولوں، انسانی بصیرت اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے جڑی رہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ کے لئے مصنوعی ذہانت کی آگاہی صرف ان ٹولز کو چلانے کی حد تک محدود نہیں ہے۔
ڈاکٹر نور آمنہ ملک نے مصنوعی ذہانت کے نظام، اس کی صلاحیتوں، حدود اور تعلیمی کام پر اس کے اثرات کی تنقیدی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لئے تیار اداروں کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے لئے باصلاحیت اساتذہ، ادارہ جاتی تیاری، مؤثر انتظامی طریقہ کار، اخلاقی تحفظات اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
شرکاء کو نصاب اور کورس کے ڈیزائن، دروس کی منصوبہ بندی، تدریسی مواد کی تیاری، تعلیمی تحریر، تحقیقی معاونت، امتحانی طریقہ کار کی تشکیل، طلبہ کی کارکردگی پر رائے، ڈیٹا کے تجزیے، مواصلات اور پیشہ ورانہ پیداواری صلاحیت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی تجربہ فراہم کیا گیا۔ شرکاء نے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا جائزہ لیا اور انسان اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعامل کے اصول بھی سیکھے۔








