قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے الیکٹرک وہیکلز کے چارجرز پر عائد ڈیوٹی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے پر ٹیکس عائد کرنا گرین انرجی کے فروغ کے لیے قومی کوششوں
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کا ای وی چارجرز پر عائد ڈیوٹی کا نوٹس، کراچی میں صنعتی بجلی کی بندش پر سی ای او کے الیکٹرک طلب

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے الیکٹرک وہیکلز کے چارجرز پر عائد ڈیوٹی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے پر ٹیکس عائد کرنا گرین انرجی کے فروغ کے لیے قومی کوششوں، وزیراعظم کے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی ترقی کے وژن اور پائیدار ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کے براہ راست منافی ہے ۔کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جاری پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز پر دوہری ڈیوٹی عائد کیے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کے قومی گرین انرجی اہداف پر اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے پر ٹیکس عائد کرنا گرین انرجی کے فروغ کے لیے قومی کوششوں، وزیراعظم کے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی ترقی کے وژن اور پائیدار ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کے براہِ راست منافی ہے جبکہ اس سے صارفین اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
مسئلے کے فوری حل کے لیے کمیٹی نے وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر ڈیوٹی کے ڈھانچے کا جائزہ لیں اور اسے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے متعلق قومی پالیسیوں سے ہم آہنگ کریں۔انتظامی غفلت پر مزید کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی نے کراچی میں پاکستان سٹیل ملز میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے پی ایس ایم کے ڈائریکٹر چوہدری اکرم کی پوسٹنگ سے متعلق سخت ہدایات جاری کیں۔ کمیٹی نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فعال ایف آئی آر اور جاری انکوائری کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو اتنے اہم عہدے پر کیسے تعینات کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت کو معاملے کی جامع انکوائری کرانے اور 15 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی باضابطہ ہدایت کردی۔کمیٹی نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس سے مقامی صنعتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کمیٹی نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا جواب دیں اور صنعتی شعبے کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات سے آگاہ کریں۔
کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کے مشیر اور سیکرٹری کی اجلاس میں مسلسل عدم شرکت پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اہم اقتصادی معاملات پر ایسے اجلاسوں سے غیر حاضری پارلیمانی نگرانی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ کمیٹی نے انہیں آئندہ اجلاس میں اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی شاہد عثمان، ساجد مہدی، کرن عمران ڈار، رومینہ خورشید عالم، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، عبدالحکیم بلوچ، ناز بلوچ، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو اور وزارت صنعت و پیداوار کے سپیشل سیکرٹری کے علاوہ وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔







