وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو پالیسی سازی میں موثر طور پر شامل کرنے، کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور معیشت میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور ملکی معیشت کا اہم مرکز ہے اور …
نجی شعبہ کو پالیسی سازی میں شریک کرنا حکومت کی ترجیح ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے

مزید خبریں
لاہور ۔5ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت نجی شعبے کو پالیسی سازی میں موثر طور پر شامل کرنے، کاروباری برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور معیشت میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور ملکی معیشت کا اہم مرکز ہے اور لاہور و گردونواح کے کاروبار اور صنعتیں ٹیکس وصولی، روزگار اور برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
کاروباری برادری کے ساتھ حکومت کا مستقل رابطہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران چیمبرز اور کاروباری طبقات کے ساتھ روابط بڑھائے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری برادری کے مسائل سنے اور سمجھے جائیں اور ان کے حل کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔ پالیسی سازی میں بھی نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر پالیسیاں بنائی جا سکیں۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ بجٹ کی تیاری کے دوران وزیراعظم نے نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی اور مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دیے۔
ان گروپس نے ٹیکس، توانائی، صنعتی ترقی اور دیگر شعبوں کے حوالے سے تجاویز دیں، جنہیں بجٹ سازی میں اہمیت دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک سالانہ آمدن رکھنے والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے، جبکہ ایکسپورٹرز کے لیے بھی سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے بڑے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے ایکسپورٹ پروسیڈز پر پہلے 2 فیصد کٹوتی ہوتی تھی، جس میں ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور ایک فیصد کم از کم ٹیکس شامل تھا۔ بجٹ میں اس کٹوتی کو کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے مسائل کے بروقت حل کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر کراچی، فیصل آباد، لاہور اور سیالکوٹ سمیت بڑے برآمدی مراکز میں ایکسپورٹرز فیسلیٹیشن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں ایکسپورٹرز کے نمائندے بھی شامل ہیں جبکہ ایف بی آر حکام کو کاروباری برادری کے ساتھ براہِ راست اور موثر رابطہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے اور اس کے بورڈ میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نجی شعبے کی تجاویز کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔انہوں نے چھوٹے دکانداروں کے لیے متعارف کرائی گئی ٹیکس سکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ آمدن رکھنے والے دکاندار اس سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ سکیم اختیاری ہے اور موجودہ فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لیے دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت دکاندار اپنی ڈکلیئر کردہ سیلز کا ایک فیصد حتمی ٹیکس کے طور پر ادا کرے گا، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی موجود ہوگی، تاہم فائلنگ کے وقت کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوں گے۔وزیر مملکت نے کہا کہ سکیم میں شامل دکانداروں کا عمومی طور پر آڈٹ نہیں ہوگا، تاہم اگر کسی کیس میں اثاثوں اور ظاہر کردہ آمدن کے درمیان بڑا تضاد سامنے آئے تو کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ایسے معاملات میں تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے فزیکل پلیٹ دی جائے گی جسے وہ اپنی دکان کے باہر نصب کریں گے۔ ایسی دکان میں ایف بی آر کا عملہ معمول کی پوچھ گچھ کے لیے داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ سکیم میں شامل دکانداروں پر ودہولڈنگ ایجنٹ بننے اور پی او ایس مشین رکھنے کی شرط بھی عائد نہیں ہوگی۔بلال اظہر کیانی نے لاہور چیمبر سے اپیل کی کہ وہ اس سکیم کی ملکیت اور کامیابی میں اپنا کردار ادا کرے اور حکومت کے ساتھ مل کر اسے آگے بڑھانے میں تعاون کرے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر چیمبرز اور رسمی شعبے کی نمائندہ تنظیموں نے بھی سکیم کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا معیشت کے تمام شعبوں کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت میں نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے کے لیے نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ حکومت کا مقصد نجی سرمایہ کو معیشت میں شامل کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نجی شعبے کو نہ صرف اس کے فوری مسائل کے حل میں شامل رکھا جائے بلکہ درمیانی اور طویل مدت کی معاشی پالیسی سازی میں بھی اس کی موثر شراکت داری یقینی بنائی جائے۔






