کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ، بلال اظہر کیانی

کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ، بلال اظہر کیانی

لاہور۔5ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ نجی شعبے کو پالیسی سازی میں مرکزی کردار دینا وزیراعظم کا وژن ہے، ٹیکس وصولی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں نجی شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، حکومت نے بجٹ سازی کے دوران نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کیا ہے جبکہ کاروباری برادری کو سہولیات کی فراہمی اور ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وہ ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

ملاقات میں لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، سابق صدور میاں انجم نثار، ملک طاہر جاوید، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عامر علی، سید سلمان، احد امین ملک اور محسن بشیر جبکہ کمشنر ایف بی آر آمنہ کمال اور کمشنر ایف بی آر شبانہ عزیز بھی موجود تھیں۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ لاہور چیمبر وزیراعظم کے دل کے بہت قریب ہے اور ملکی معیشت میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کا اہم ستون ہے اور ٹیکس وصولی، روزگار کی فراہمی، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور برآمدات میں نجی شعبہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق حکومت کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس کی تجاویز کو پالیسی سازی میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم گزشتہ ایک سال سے کاروباری برادری کو بھرپور وقت دے رہے ہیں اور مختلف شعبوں سے وابستہ نمائندوں کے مسائل اور تجاویز براہ راست سن رہے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجٹ سازی کے عمل میں نجی شعبے کی تجاویز کو شامل کیا ہے تاکہ معاشی پالیسیوں کو کاروباری ضروریات اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ حکومت کا مقصد ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا ہے جس میں صنعتکار، تاجر اور سرمایہ کار اپنی معاشی سرگرمیاں اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد کاروباری طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اور سرمایہ کاری و کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی چیئرمین شپ نجی شعبے کو دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدی شعبے کی استعداد بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے نجی شعبے کو زیادہ موثر کردار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہر ہفتے ایف بی آر کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس وصولی کے نظام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ ٹیکس نظام کو آسان اور کاروباری طبقے کے لیے سہل بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دکانداروں کے مسائل کے حل کے لیے آوٹ آف دی باکس حل دیا گیا ہے، 20 کروڑ روپے تک آمدن والے دکاندار ٹیکس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرتے ہوئے انہیں غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رکھا جائے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے، حکومت عوام اور کاروباری طبقے پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف کاروباری سرگرمیوں کے مطابق مقرر کیے جائیں تاکہ صنعت و تجارت پر غیر ضروری دبا نہ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اس وقت مختلف مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت کو صنعت و تجارت کے مسائل کے حل کے لیے مزید موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت اور بجلی کے نرخ صنعت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جس سے ملکی صنعت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ صنعت کو سستی اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ہاوسنگ سوسائٹیز کے پھیلائو سے زرعی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے، زرعی زمینوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر منصوبہ بند شہری پھیلائو نہ صرف زرعی اراضی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے انفورسمنٹ کلچر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اداروں کی کارروائیاں کاروباری ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ 40، 50 سال پرانی صنعتوں کو بھی منتقلی کے نوٹسز دئیے جا رہے ہیں جس سے صنعتکاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے قائم صنعتی یونٹس ملکی معیشت، روزگار اور ٹیکس آمدن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے، حکومت کو چاہیے کہ صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے کاروبار میں آسانیاں پیدا کرے، غیر ضروری ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کرے اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے۔ملاقات کے دوران لاہور چیمبر کی جانب سے کاروباری اور صنعتی شعبے کو درپیش مختلف مسائل اور تجاویز بھی وزیر مملکت کے سامنے پیش کی گئیں۔

وزیر مملکت نے کاروباری برادری کی تجاویز کو اہم قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل مشاورت اور رابطہ معاشی پالیسیوں کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ فریقین نے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔