سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی بڑی قانونی و سفارتی کامیابی ہے، رانا مشہود احمد خان

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام(پی ایم وائی پی)رانا مشہود احمد خان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے آبی اور سفارتی موقف کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی پوزیشن کو مضبوط کیا بلکہ …

لاہور۔6ستمبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام(پی ایم وائی پی)رانا مشہود احمد خان نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے آبی اور سفارتی موقف کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانونی پوزیشن کو مضبوط کیا بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، عالمی قانون کی بالادستی اور ریاستوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں کے احترام کے اصول کو بھی تقویت دی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے اس امر کو واضح کر دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ہے، یہ معاہدہ اب بھی قانونی اعتبار سے مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت پر اس کی پابندی لازم ہے۔ رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی بھی توثیق کرتا ہے کہ دو ممالک کے درمیان طے پانے والے بین الاقوامی معاہدوں کو کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدام کے ذریعے ختم یا غیر موثر نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے صرف قانونی کامیابی نہیں بلکہ اہم سفارتی پیش رفت بھی ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر ہمارے اس موقف کو پذیرائی ملی کہ سندھ طاس معاہدے کو اس کی اصل روح اور قانونی فریم ورک کے مطابق برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ماضی میں سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کے لیے مختلف جواز پیش کیے جاتے رہے تاہم عالمی ثالثی عدالت نے ان جوازوں کو تسلیم نہیں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ محض دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ملک کے آبی تحفظ، زرعی معیشت اور عوامی مفادات سے براہ راست منسلک اہم معاملہ ہے، پاکستان کے لیے پانی ایک بنیادی قومی وسیلہ ہے اور اس سے متعلق حقوق کا تحفظ ملکی معیشت، زراعت اور مستقبل کی آبی ضروریات کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے سے یہ اصول بھی مزید مستحکم ہوا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں اور ان کے تحت حاصل حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، طے شدہ معاہدوں اور پرامن مذاکراتی عمل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ،اس کا موقف ہمیشہ یہ رہا کہ تنازعات کو طاقت یا یکطرفہ اقدامات کے بجائے قانون، مذاکرات اور باہمی اتفاق رائے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ اسی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی قانونی حیثیت کو کسی ایک فریق کی خواہش پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے قانونی موقف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانونی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ عالمی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری خطے میں پائیدار امن، باہمی اعتماد اور تعاون کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، پاکستان عالمی سطح پر اپنے آبی حقوق کے دفاع کے لیے قانونی و سفارتی ذرائع استعمال کر تے ہوئے اس معاملے پر اپنے قومی مفادات کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنائے گا۔