خلع پر حق مہر واپسی کی حد مقرر کرنےکے قانون کے معاملے کو وزیر اعلی پنجاب کے نوٹس میں لایا جائے ، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے خلع لینے والی خاتون کو 50 فیصد حق مہر واپس کرنے سے متعلق پنجاب کے قانون کو خلافِ شریعت قرار دینے کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے خلع لینے والی خاتون کو 50 فیصد حق مہر واپس کرنے سے متعلق پنجاب کے قانون کو خلافِ شریعت قرار دینے کے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب کی وزیر اعلیٰ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اس کیس کو چلانا چاہتی ہیں یا نہیں؟ ۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ خلع لینے پر حق مہر کا 50 فیصد واپس کرنے کا قانون صرف پنجاب نے بنایا ہے۔ پنجاب میں خاتون وزیر اعلیٰ ہیں، معاملہ ان کے سامنے رکھا جائے۔پنجاب حکومت قرآن و سنت سے اس قانون کا جواز بتائے۔ انہوں نے کہا کہ خلع پر کیا دینا ہے اور کتنا دینا ہے، یہ عورت کا فیصلہ ہے۔

قرآن نے جو اختیار عورت کو دیا ہے حکومت وہ کیسے چھین سکتی ہے؟ حکومت قانون سازی کرکے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کرسکتی ہے؟جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ عورت کو دیا گیا حق مہر اس کی ملکیت ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کردی۔