وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کا اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 معاشی ترقی کے لیے مستقبل کے روڈ میپ پر اظہار خیال

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کا اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 معاشی ترقی کے لیے مستقبل کے روڈ میپ پر اظہار خیال

اسلام آباد۔17ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین پرائیویٹائزیشن کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) نے اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کے دوران "(اگلا قدم ۔پاکستان میں ترقی، سرمایہ کاری اور مسابقت کا اگلا مرحلہ)” (The Next Move- Pakistan’s Next Phase of Growth، Investment and Competitiveness) کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معاشی ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس کے معاشی ترقی کے لئے سٹریٹجک جنریشن، جدت طرازی، نجی شعبے کو فعال کرنا اور قابل اعتماد عوامی پالیسی فریم ورک کی تیاری کرنا انتہائی اہم ہے۔

محمد علی نے حالیہ میکرو اکنامک فوائد اور سخت فیصلوں کے ذریعے حاصل ہونے والے استحکام کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ استحکام ایک پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے محض ایک لانچ پیڈ ہے۔ انہوں نے 2050 تک 390 ملین تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی آبادی کو سہارا دینے کے لیے ریاست اور نجی شعبے کے تعلقات کو تبدیل کرنے پر زور دیا۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ ریاست کو ایسے شعبوں کی قیادت، ریگولیٹ، شراکت داری، فعالیت اور حکمت عملی سے باہر نکلنا چاہیے جہاں پرائیویٹ انٹرپرائز بہتر قیمت فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری صرف ملکیت کی منتقلی نہیں بلکہ روایتی انتظام کی طرف سے محدود معاشی قدر کو وسعت دینے کا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی پیچیدہ ٹرانزیکشن سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کی نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے حوالہ سے پائپ لائن میں موجود ٹرانزیکشنز کے لئے رہنمائی کریں گے تاکہ جدید انفراسٹرکچر اور خدمات فراہم کی جا سکیں۔اپنے خطاب کے دوران نجکاری کے مشیر نے پاکستان کی اقتصادی تجدید کے لیے درکار تین ساختی تبدیلیوں کا خاکہ بھی پیش کیا اور کہا کہ اقتصادی ترقی کے روایتی طریقے کو تبدیل کرنے کھپت اور بیرونی فنانسنگ سے سرمایہ کاری کے حصول، پیداواریت میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کا فروغ ضروری ہے۔

انہوں نے پیداواری استعداد کے فروغ کے حوالہ سے کہا کہ ہماری صنعتوں میں جدت کو ترجیحات میں شامل، صنعت کاری کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی جیسے، روبوٹکس اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر خواتین کی شمولیت سے افرادی قوت کی شرکت کو بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ۔مالک کے ساتھ مسابقت کیلئے بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر پیداواری کاروبار کی تعمیر کے لیے مقامی کاروباروں کو دوبارہ ترتیب دینا ہو گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مشیر نجکاری محمد علی نے خبردار کیا کہ ممکنہ حکمت عملی شراکت داری سے ہی بہتر نتائج فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں پر زور دیا کہ 2050 کے لیے انتہائی مسابقتی اور پیداواری پاکستان کی تعمیر کے لیے موجودہ معاشی استحکام کے اقدامات سے مستفید ہوتے ہوئے آئندہ نسلوں کے لئے سوچیں۔

 

مزید خبریں