نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کاافغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کاافغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار

نیویارک ۔22ستمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئےاس امر کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ منگل کو وزارت خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر افغانستان سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کیا۔انہوں نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں حالیہ دہشت گرد حملے کو بھی اجاگر کیا، جس میں بے گناہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ خطے سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے سنگین خطرے کی واضح یاد دہانی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے حملے دہشت گرد گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے طالبان پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں، دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں، خواتین اور لڑکیوں پر عائد ایسی پابندیاں ختم کریں جو اسلامی اصولوں اور مسلم معاشرے کے اقدار و ضوابط کے منافی ہیں، سیاسی طور پر جامع طرز حکمرانی کو فروغ دیں اور افغانستان واپس آنے والے افغان شہریوں کی دوبارہ آبادکاری اور معاشرے میں انضمام میں سہولت فراہم کریں۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے افغانستان کی انسانی ضروریات اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے خاطر خواہ بین الاقوامی مالی معاونت کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے ایک ایسے مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا جو خود اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے۔

مزید خبریں