نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران، امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کر سکتا ہے، ٹرمپ

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران، امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کر سکتا ہے، ٹرمپ

اقوام متحدہ۔23ستمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران، امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے جاری تنازع کے باوجود اپنی امن کوششوں کو اجاگر کیا اور پاکستان کی جانب سے لاکھوں جانیں بچانے میں ان کے کردار کے اعتراف پر وزیراعظم شہباز شریف کو سراہا، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع میں ان کی ثالثی کے حوالے سے تھا۔اپنی دوسری مدتِ صدارت میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے وسیع خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کھلے عام انہیں لاکھوں جانیں بچانے کا کریڈٹ دیا۔ ان کا اشارہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اپنے کردار کی جانب تھا۔

ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم، جو ایک بہترین انسان ہیں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 ملین سے زیادہ جانیں بچائیں۔اسی طرح ٹرمپ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے صدور کی جانب سے بھی امن کی کوششوں میں ان کے کردار کے اعتراف کا حوالہ دیا۔تنازع کو سات ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچنے پر ٹرمپ نے تہران کے حوالے سے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہوگا جس کے تحت وہ دوبارہ تعمیر کرے اور پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ملک بن سکے۔انہوں نے کہا کہ تنازع آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کو متاثر کر رہا ہے اور سعودی عرب تک بھی پھیل چکا ہے، جہاں یمن کے حوثی باغی، جو سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں، حملے کر رہے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ کیا میں انہیں جہنم میں دھکیل دوں، جہاں ان کے پاس بقا کا کوئی امکان اور مستقبل یا آنے والی نسلوں کے لیے کوئی امید نہ ہو؟ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم انتخابات کے بعد معاہدہ کر لیں گے، کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ تہران یہ دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے کہ "میں کیسا کرتا ہوں”، یعنی 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ان کی کارکردگی کیا رہتی ہے، جہاں ڈیموکریٹس کانگریس پر ریپبلکنز کے کنٹرول کو چیلنج کر رہے ہیں۔ایران کے جوہری عزائم کے حوالے سے ٹرمپ نے عہد کیا کہ وہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔امریکی صدر نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے عالمی تعاون بھی طلب کیا۔مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے حالیہ پیش گوئیوں پر کہ یہ انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کی دوڑ جاری رکھنے کے اپنے سابقہ مؤقف کا اعادہ کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس وقت چین سے بہت آگے ہیں اور باقی سب سے بھی، میں کسی ایسی چیز کی ترقی کو نہیں روکوں گا جو صنعتی انقلاب سے بھی زیادہ بڑی ثابت ہوگی۔وسیع تر خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد انہوں نے آٹھ تنازعات کے خاتمے میں مدد کی ہے۔ان میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسوو اور سربیا، جمہوریہ کانگو اور روانڈا، پاکستان اور بھارت، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازعات، اور غزہ کی جنگ شامل ہیں۔صدر نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ قتل و غارت گری کو روکا جائے۔

مزید خبریں